شخص صرف گذشتہ زمانہ کا ہی حوالہ دیتا ہے اور جن انسانی طاقتوں اور کمالات کا اس کو دعویٰ ہے وہ کسی انسان میں دکھلا نہیں سکتا اور کہتا ہے کہ وہ قوتیں اور طاقتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں ایسا شخص تو تحقیق کی رُو سے آخر کار جھوٹا ہی ٹھہرتا ہے کیونکہ جس حالت میں فیاض مطلق نے جو کچھ انسانی فطرت کے جسمانی حصہ کو قوتیں عطا کی تھیں جیسے قوت باصرہ، سامعہ، شامّہ، لامسہ، حافظہ، متفکّرہ وغیرہ۔ وہ اب تک انسانوں میں پائی جاتی ہیں تو پھر کیونکر خیال کیا جائے کہ جو روحانی قوتیں انسانوں میں پہلے زمانوں میں تھیں اس زمانہ میں وہ تمام قوتیں اُن کی فطرت سے مفقوؔ د ہو گئی ہیں حالانکہ وہ قوتیں جسمانی قوتوں کی نسبت تکمیل نفس انسان کے لئے زیادہ ترضروری ہیں اور کیونکر انکار ہو سکتا ہے کہ جس حالت میں کہ مشاہدہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ مفقود نہیں ہوئیں۔ اِس سے ظاہر ہے کہ کس قدر وہ مذہب سچائی سے دور ہیں کہ یہ تو اُن کو اقرار ہے کہ انسانی فطرت کی جسمانی اور معقولی قوتیں اب بھی ایسی ہی ہیں جیسا کہ پہلے تھیں مگر اس سے وہ منکر ہیں کہ انسانوں میں روحانی قوتیں اب بھی ایسی ہی پائی جاتی ہیں جیسا کہ پہلے تھیں۔
اِس تمام تقریر سے ہمارا مدعایہ ہے کہ کسی شخص کا محض سچی خوابوں کا دیکھنا یا بعض سچے الہامات کا مشاہدہ کرنا یہ امر اس کے کسی کمال پر دلیل نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ دوسرے علامات نہ ہوں جو ہم انشاء اللہ القدیر تیسرے باب میں بیان کریں گے بلکہ یہ صرف دماغی بناوٹ کا ایک نتیجہ ہے اسی وجہ سے اس میں نیک یا راست باز ہونے کی شرط نہیں اور نہ مومن اور مسلمان ہونا اس کے لئے ضروری ہے اور جس طرح محض دماغی بناوٹ کی و جہ سے بعض کو سچی خوابیں آجاتی ہیں یا الہام کے رنگ میں کچھ معلوم ہو جاتا ہے اِسی طرح دماغی بناوٹ کی وجہ سے بعض کی طبیعت معارف اور حقائق سے مناسبت رکھتی ہے اور لطیف لطیف باتیں ان کو سوجھتی ہیں لیکن دراصل وہ لوگ اس حدیث صحیح کا مصداق ہوتے ہیں کہ اٰمن شعرہ وکفر قلبہ یعنی اس کا شعر ایمان لایا مگر اُس کا دل کافر ہے۔ اِسی لئے صادق کو شناخت کرنا ہر ایک سادہ لوح کا کام نہیں
نہیں اے بساابلیس آدم روئے ہست۔ پس بہر دستے نبایدد اددست۔ اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اِس درجہ کے لوگوں کو جو خوابیں یا الہامات ہوتے ہیں وہ