منلّدن ربّ کریم۔درکلام تو چیزے ست کہ شعرار ادران فصیح کیا گیا ہے۔ تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخلےؔ نیست۔ رب عَلّمنی ماھو خیر عندک۔ یعصمک اللّٰہ من دخل نہیں۔ اے میرے خدا مجھے وہ سکھلا جو تیرے نزدیک بہتر ہے تجھے خدا دشمنوں سے العدا و یسطو بکلّ من سطا۔ برزما عند ھم من الرّماح۔ انی بچائے گا اور حملہ کرنے والوں پر حملہ کر دیگا۔ انہوں نے جو کچھ اُن کے پاس ہتھیار تھے سب ظاہر کر دئے سأخبرہ فی اٰخرالوقت۔ انک لست علی الحق۔ ان اللّٰہ رء وف مَیں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آخر وقت میں خبر دیدونگا کہ تُو حق پر نہیں ہے۔ خدا رؤف و رحیم۔ انّا النّا لک الحدید۔ انی مع الافواج اٰتیک بغتۃ۔ رحیم ہے۔ ہم نے تیرے لئے لوہے کو نرم کر دیا۔ مَیں فوجوں کے ساتھ ناگہانی طور پر آؤں گا۔ انی مع الرسول اُجیب اُخطی و اُصیب۔* وقالوا انّٰی لک مَیں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دُونگا اپنے ارادہ کو کبھی چھوڑ بھی دونگا اور کبھی ارادہ پورا کرونگا۔ اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں ھٰذا۔ قل ھو اللّٰہ عجیب۔ جآء نی ٰایلژ واختار۔ وادار اصبعہٗ سے حاصل ہوا۔ کہہ خدا ذو العجائب ہے۔ میرے پاس آیل آیا اور اُس نے مجھے چُن لیا۔ اور اپنی انگلی کو گردش دی و اشار۔ ان وعد اللّٰہ اتٰی۔ فطوبٰی لمن وجدورأیٰ۔ الامراض اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔ طرح طرح کی بیماریاں اس وحی الٰہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ مَیں خطا بھی کرونگا اور صواب بھی یعنی جو مَیں چاہوں گا کبھی کروں گا اور کبھی نہیں اور کبھی میرا ارادہ پورا ہوگا اور کبھی نہیں۔ ایسے الفاظ خدا تعالیٰ کی کلام میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ مَیں مومن کی قبض رُوح کے وقت تردّد میں پڑتا ہوں۔ حالانکہ خدا تردّد سے پاک ہے اِسی طرح یہ وحی الٰہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطاجاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کبھی مَیں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔ منہ اِس جگہ آیل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے اِس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔ منہ