تشاع والنفوس تضاع انی مع الرسول اقوم پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔ مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ و اُؔ فطر واصوم۔* ولن ابرح الارض الی الوقت المعلوم۔ مَیں افطار کرونگا اور روزہ بھی رکھونگا اور ایک وقت مقرر تک میں اس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔ واجعل لک انوار القدوم۔ واقصدک واروم۔ واعطیک اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطا کروں گا۔ اور تیری طرف قصد کروں گا۔ اور وہ چیز تجھے دونگا جو مایدوم۔ انا نرث الارض ناکلھا من اطرافھا۔ نقلوا الی تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ ہم زمین کے وارث ہونگے اور اطراف سے اسکو کھاتے آئیں گے۔ کئی لوگ قبروں کی طرف المقابر۔ ظفر من اللّٰہ وفتح مبین۔ ان ربّی قویّ قدیر۔ نقل کریں گے۔ اُس دن خدا کی طرف سے کُھلی کُھلی فتح ہوگی۔ میرا ربّ زبردست قدرت والا ہے۔ انہ قویّ عزیز۔ حلّ غضبہ علی الارض۔ اِنی صادق اور وہ قوی اور غالب ہے۔ اُس کا غضب زمین پر نازل ہوگا۔ میں صادق ہوں انی صادق و یشھد اللّٰہ لی۔ اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو میں صادق ہوں اور خدا میری گواہی دے گا۔ اے ازلی ابدی خدا میری پکڑ کے آ۔ ضاقت الارض بمارحبت۔ ربّ انّی مغلوب فانتصر مدد کے لئے آ۔ زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی ہے، اے میرے خدا میں مغلوب ہوں میرا انتقام دشمنوں سے فسحّقھم تسحیقا۔ زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔ لے۔ پس اُن کو پیس ڈال۔ کہ وہ زندگی کی وضع سے دُور جا پڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ خدا روزہ رکھنے اور افطار سے پاک ہے اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے اُس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔ پس یہ صرف ایک استعارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی مَیں اپنا قہرنازل کروں گا اور کبھی کچھ مہلت دُوں گا۔ اُس شخص کی مانند جو کبھی کھاتا ہے اور کبھی روزہ رکھ لیتا ہے اور اپنے تئیں کھانے سے روکتا ہے۔ اور اس قسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا کہ مَیں بیمار تھا۔ مَیں بھوکا تھا۔ مَیں ننگا تھا۔ الخ۔ منہ