یظھرؔ ک اللّٰہ ویثنی علیک۔ لولاک لما خلقت الافلاک*
خدا تجھے غالب کریگا اور تیری تعریف لوگوں میں شائع کر دیگا۔ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔
ادعونی استجب لکم ۔ دست تو دعائے تو ترحم زِخدا۔
مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔ تیرا ہاتھ ہے اور تیری دعا اور خدا کی طرف سے رحم ہے۔
زلزلہ کا دھکا۔ عفت الدیار محلّھا و مقامھا
زلزلہ کا دھکا جس سے ایک حصہ عمارت کا مٹ جائیگا مستقل سکونت کی جگہ اور عارضی سکونت کی جگہ سب مٹ جائینگی
صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تاثیر اُنکے دلوں میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے خدا کی راہ میں بھیڑوں اور بکریوں کی طرح سرکٹائے۔ کیا کوئی پہلی اُمّت میں ہمیں دکھا سکتا ہے یا نشان دے سکتا ہے کہ انہوں نے بھی صدق اور صفا دکھلایا یہ تو حضرت موسیٰ کے صحابہ کا حال تھا۔ اب حضرت مسیح کے صحابہ کا حال سنو کہ ایک نے تو جس کا نام یہودا اسکریوطی تھا تیس روپیہ لیکر حضرت مسیح کو گرفتار کرا دیا اورؔ پطرس حواری جس کو بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں اس نے حضرت مسیح کے رُو برو اُن پر *** بھیجی اور باقی جس قدر حواری تھے وہ مصیبت کا وقت دیکھ کر بھاگ گئے اور ایک نے بھی استقامت نہ دکھلائی اور ثابت قدم نہ رہے اور بُزدلی اُن پر غالب آگئی۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے تلواروں کے سایہ کے نیچے وہ استقامتیں دکھلائیں اور اس طرح مرنے پر راضی ہوئے جن کی سوانح پڑھنے سے رونا آتا ہے پس وہ کیا چیز تھی جس نے ایسی عاشقانہ رُوح اُن میں پھونک دی۔ اور وہ کونسا ہاتھ تھا جس نے اُن میں اس قدر تبدیلی کر دی یا تو جاہلیت کے زمانہ میں وہ حالت اُن کی تھی کہ وہ دنیا کے کیڑے تھے اور کوئی معصیت اور ظلم کی قسم نہیں تھی جو اُن سے ظہور میں نہیں آئی تھی۔ اور یا اس نبی کی پیروی کے بعد ایسے خدا کی طرف کھینچے گئے کہ گویا خدا اُن کے اندر سکونت پذیر ہو گیا۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ وہی توجہ اس پاک نبی کی تھی جو اُن لوگوں کو سفلی زندگی سے ایک پاک زندگی کی طرف کھینچ کر لے آئی اور جو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اس کا سبب تلوار نہیں تھی بلکہ وہ اس تیرہ سال کی آہ وزاری اور دعااور تضرع کا اثر تھا۔
* ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جاتی ہے یعنی ملائک کو اس کے مقاصد کی خدمت میں لگا یا جاتا ہے اور زمین پر مستعد طبیعتیں پیدا کی جاتی ہیں پس یہ اسی کی طرف اشارہ ہے۔منہ