تتبعھا الرّادفۃ ۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی اس کے بعد ایک اور زلزلہ آئے گا۔ بہار جب دوبارہ آئے گی تو پھر ایک اور زلزلہ آئے گا۔ پھرؔ بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن۔ ربّ اخّروقت پھر بہار جب بار سوم آئیگی تو اسوقت اطمینان کے دن آجائینگے اور اسوقت تک خدا کئی نشان ظاہر کریگا اے خدا بزرگ زلزلہ کے ظہور ھٰذا۔ اخّرہ اللّٰہ الی وقت مسمّٰی۔* تریٰ نصرًا عجیبا۔ میں کسی قدر تاخیر کر دے۔ خدا نمونۂ قیامت کے زلزلہ کے ظہور میں ایک وقت مقرر تک تاخیر کر دیگا۔ تب تُو ایک عجیب مدد دیکھے گا * پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونۂ قیامت ہوگا بہت جلد آنیوالا ہے اور اس کے لئے یہ نشان دیا گیا تھا کہ پیر منظور محمد لدہانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے ظہورکیلئے ایک نشان ہوگا اسلئے اس کا نام بشیر الدولہ ہوگا کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کیلئے بشارت دیگا۔ اِسی طرح اس کا نام عالم کباب ہوگا۔ کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کرینگے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا ہی اس کا نام کلمۃ اللہ اور کلمۃ العزیز ہوگا کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کیلئے اور نام بھی ہونگے۔ مگر بعد اسکے میں نے دعاکی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔ اس دعاکا اللہ تعالیٰ نے اس وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ ربّ اخّروقت ھٰذا۔ اخّرہ اللّٰہ الٰی وقت مسمّٰی یعنی خدا نے دعاقبول کرکے اس زلزلہ کو کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے اور یہ وحی الٰہی قریبا چار۴ ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہو چکی ہے اور چونکہ زلزلہ نمونۂ قیامت آنے میں تاخیر ہو گئی اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔ لہٰذاؔ پیر منظور محمد کے گھر میں ۱۷؍جولائی ۱۹۰۶ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیدا ہوئی اور یہ دعاکی قبولیت کا ایک نشان ہے اور نیز وحی الٰہی کی سچائی کا ایک نشان ہے جو لڑکی پیدا ہونے سے قریباً چار۴ ماہ پہلے شائع ہو چکی تھی مگر یہ ضرور ہوگا کہ کم درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونۂ قیامت زلزلہ سے رُکی رہے جب تک وہ موعود لڑکا پیدا ہو۔ یاد رہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کرکے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونۂ قیامت کی نسبت تسلی دیدی کہ اس میں بموجب وعدہ اخّرہ اللّٰہ الٰی وقت مسمّٰی ابھی تاخیر ہے اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور اندیشہ د امنگیر ہوتا کہ شائد وہ وقت آگیا اور تاخیر کا کچھ اعتبار نہ ہوتا اور اب تو تاخیر ایک شرط کے ساتھ مشروط ہو کر معیّن ہو گئی۔ منہ