تیرے آگے ہے۔* پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔ ربّؔ فرق بین صادق وکاذب ۔ انت تریٰ کلّ مصلح اے خدا سچے اور جھوٹے میں فرق کرکے دِکھلا۔ تُو ہر ایک مصلح اور صادق وصادق۔ رَبّ کلّ شی ءٍ خادمک ۔ ربّ فاحفظنی وانصرنی کو جانتا ہے۔ اے میرے خدا ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔ اے میرے خدا شریر کی شرارت سے مجھے نگہ رکھ اور میری وارحمنی۔ خدا قاتل تو باد۔ ومرااز شرتو محفوظ دارد۔ مدد کر اور مجھ پر رحم کر۔ اے دشمن تو جو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے خدا تجھے تباہ کرے اور تیرے شر سے مجھے نگہ رکھے یعنی زلزلہ آیا اُٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔ وہ بھونچال جو وعدہ دیا گیا ہے جلد آنے والا ہے اُس وقت خدا کے بندے قیامت کا نمونہ دیکھ کر نمازیں پڑھیں گے۔ رشد اور صلاح اور تقویٰ سے بہت ہی کم حصہ ملا تھا اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی اُمّت اولیاء اللہ کے وجود سے عموماً محروم رہی تھی اور کوئی شاذونادر اُن میں ہوا تو وہ حکم معدوم کا رکھتا ہے بلکہ اکثر ان ؔ میں سرکش فاسق فاجر دنیا پرست ہوتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ان کی نسبت حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ کی قوت تاثیر کا توریت اور انجیل میں اشارہ تک نہیں ہے توریت میں جا بجا حضرت موسیٰ کے صحابہ کا نام ایک سرکش اور سخت دل اور مرتکب معاصی اور مفسد قوم لکھا ہے جن کی نافرمانیوں کی نسبت قرآن شریف میں بھی یہ بیان ہے کہ ایک لڑائی کے موقع کے وقت میں انہوں نے حضرت موسیٰ کو یہ جواب دیا تھا 33 ۱؂۔ یعنی تُو اور تیرا ربّ دونوں جاکر دشمنوں سے لڑائی کرو ہم تو اسی جگہ بیٹھیں گے یہ حال تھا اُن کی فرمانبرداری کا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں میں وہ جوش عشقِ الٰہی پیدا ہوا اور توجہ قدسی آنحضرت یہ پیشگوئی ایک ایسے شخص کے بارہ میں ہے جو مرید بن کر پھر مرتد ہو گیا اور بہت شوخیاں دکھلائیں اور گالیاں دیں اور زبان درازی میں آگے سے آگے بڑھا۔ پس خدا فرماتا ہے کہ کیوں آگے بڑھتا ہے کیا تو فرشتوں کی تلواریں نہیں دیکھتا۔ منہ