اطال اللّٰہ بقاء ک۔ اسی۸۰ یا اسپر پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔ خدا تیری عمر دراز کرے گا۔ اسّی۰۸ برس یا پانچ چار زیادہ یا پانچ چار کم۔ مَیں تجھے بہت برکت دُونگا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈُھونڈیں گے۔ تیرے لئے میرا نام چمکا۔ پچاس یا ساٹھ نشان اور دکھاؤں گا۔ خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اوراُن کی تعظیم ملوکؔ اور ذوی الجبروت کرتے ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار نبی کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ علماء اُمّتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری اُمّت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہونگے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر اُنکی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرّہ کچھ دخل نہ تھا اسی وجہ سے میری طرح اُن کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتیبلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست اُن کو منصبِ نبوت ملا۔ اور اُن کو چھوڑ کر جب اور بنی اسرائیل کا حال دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کو