رحم سے تعلق ہو جاتاہے اور جیسا کہ قبل ظہور دوسرے مرتبہ وجودروحانی کے لغو تعلقات اورلغوشغلوں سے رہائی پانا غیر ممکن ہوتا ہے اور صرف وجود روحانی کا پہلا مرتبہ یعنی خشوع اور عجزونیاز کی حالت اکثر برباد بھی چلی جاتی ہے اور انجام بد ہوتا ہے۔ ایسا ہی نطفہ بھی جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے علقہ بننے کی حالت سے پہلے بسا اوقات صدہا مرتبہ لغو طور پر ضائع ہوجاتا ہے پھر جب ارادہ الٰہی اس بات کے متعلق ہوتا ہے کہ لغو طور پر ضائع ہونے سے اس کو بچائے تو اُس کے امر اور اذن سے وہی نطفہ رحم میں علقہ بن جاتا ہے تب وہ وجود جسمانی کا دوسرا مرتبہ کہلاتا ہے غرض دوسرامرتبہ روحانی وجود کا جو تمام لغو باتوں اور تمام کاموں سے پرہیز کرنا اور لغو باتوں اور لغو تعلقات اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہونا ہے یہ مرتبہ بھی اسی وقت میسّر آتا ہے کہ جب خدائے رحیم سے انسان کا تعلق پیدا ہو جائے۔ کیونکہ یہ تعلق میں ہی طاقت اور قوتؔ ہے کہ دوسرے تعلق کو توڑتا ہے اور ضائع ہونے سے بچاتا ہے اور گو انسان کو اپنی نماز میں حالت خشوع میسر آجائے جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے پھر بھی وہ خشوع لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو جوشوں سے روک نہیں سکتا۔ جب تک کہ خدا سے وہ تعلق نہ ہو جو روحانی وجود کے دوسرے مرتبہ پر ہوتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ گو ایک انسان اپنی بیوی سے ہر روز کئی دفعہ صحبت کرے تاہم وہ نطفہ ضائع ہونے سے رُک نہیں سکتا جب تک کہ رحم سے اس کا تعلق پیدا نہ ہو جائے۔ پس خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ 3 اس کے یہی معنے ہیں کہ مومن وہی ہیں جو لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرتے ہیں اور لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرنا خدا تعالیٰ کے تعلق کا موجب ہے*۔ گویا لغو باتوں سے دل کو لغو تعلقات سے الگ ہونا خدا تعالیٰ کے تعلق کا اس لئے موجب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں آیات میں اَفْلَحَ کے لفظ کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کی طلب میں کوئی کام