چھڑانا خدا سے دل کو لگا لینا ہے کیونکہ انسان تعبّد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور طبعی طور پر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجود ہے پس اسی وجہ سے انسان کی روح کو خداتعالیٰ سے ایک تعلق ازلی ہے۔ جیسا کہ آیت33۱ سے ظاہر ہوتا ہے اوروہ تعلق جو انسان کو رحیمیّت کے پرتوہ کے نیچے آکر یعنی عبادات کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے حاصل ہوتا ہے جس تعلق کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ خدا پر ایمان لاکر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔ وہ اُسی ازلی تعلق کو مُکمن قوت سے حیّزِفعل میں لانا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نماز اور یاد الٰہی میں حالتِ خشوع اور رقّت اور سوز و گداز ہے یہ مرتبہ اپنی ذات میں صرف اطلاق کی حیثیت رکھتا ہے یعنی نفس خشوع کے لئے یہ لازمی امر نہیں ہے کہ ترکِ لغویات بھی ساتھ ہی ہو یا اس سے بڑھ کر کوئی اخلاقِ فاضلہ اور عاداتِ مہذبہ ساتھ ہوں بلکہ ممکن ہے کہ جو شخص نماز میں خشوع اور رقّت و سوز اور گریہ وزاری اختیار کرتا ہے خواہ اس قدر کہ دوسرے پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے ہنوز لغوباتوں اور لغو کاموں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو تعلقوں اور لغو نفسانی جوشوں سے اس کا دل پاک نہ ہو یعنی ممکن ہے کہ ہنوز معاصی سے ؔ اس کورُستگاری نہ ہو کیونکہ خشوع کی حالت کا
کرے گا وہ بقدر محنت کشی اور بقدر اپنی سعی کے خدا کو پائے گا۔ اور اس سے تعلق پیدا کرلے گا۔ پس جو شخص خدا کا تعلق حاصل کرنے کے لئے لغو کام چھوڑتا ہے اس کو اس وعدہ کے موافق جو لفظ افلح میں ہے ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو اس نے کام کیا ہے وہ بھی بڑا بھاری کام نہیں صرف ایک خفیف تعلق کو جو اس کو لغویات سے تھا چھوڑ دیا ہے اور یاد رہے کہ جیسا کہ لفظ افلح اول آیت میں موجود ہے یعنی اس آیت میں کہ3۔3۲ یہی لفظ عطف کے طور پر تمام آئندہ آیتوں سے وعدہ کے طور پر متعلق ہے۔ پس یہ آیت کہ3۳ یہی معنی رکھتی ہے کہقد أفلح المؤمنون الذین ھم عن اللغو معرضون اور افلاح یعنی افلح کا لفظ ہریک مرتبہ ایمان پر ایک خاص معنی رکھتا ہے اور ایک خاص تعلّق کا وعدہ دیتا ہے۔ منہ