صرف ایک خون جما ہوا بن گیا اور رحم کے تعلق کی وجہ سے ضائع ہونے سے بچ گیا اور جس طرح اورصورتوں میں ایک نطفہ لغو طور پر پھیلتا اور بیہودہ طور پر اندر سے بہ نکلتااورکپڑوں کو پلید کرتا تھا اب اس تعلق کی وجہ سے بیکار جانے سے محفوظ رہ گیا۔ لیکن ہنوز وہ ایک جما ہوا خون تھا جس نے ابھی نجاست خفیفہ کی آلودگی سے پاکی حاصل نہیں کی تھی۔ اگر رحم سے یہ تعلق اس کا پیدا نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اندام نہانی میں داخل ہوکر بھی رحم میں قرار نہ پاسکتا اور باہر کی طرف بہ جاتا۔ مگر رحم کی قوت مدبّرہ نے اپنے خاص جذب سے اُس کو تھام لیا اور پھر ایکؔ جمے ہوئے خون کی شکل پر بنا دیا۔ تب جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اس تعلق کی وجہ سے علقہ کہلایا اور اس سے پہلے رحم نے اُس پر کوئی اپنا خاص اثر ظاہر نہیں کیا تھا اور اسی اثر نے اس کو ضائع ہونے سے روکا اور اسی اثر سے نطفہ کی طرح اُس میں رقّت بھی باقی نہ رہی یعنی اس کا قوام رکیک اور پتلا نہ رہا بلکہ کسی قدر گاڑھا ہوگیا۔ اور اس علقہ کے مقابل پر جو جسمانی وجود کادوسرا مرتبہ ہے روحانی وجود کادوسرا مرتبہ وہ ہے جس کا ابھی ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں جس کی طرف قرآن شریف کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے 3یعنی رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغوکاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور ایمان ان کا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اس قدر کنارہ کشی اُن پر سہل ہو جاتی ہے کیونکہ بوجہ ترق ئ ایمان کے کسی قدر تعلق اُن کا خدائے رحیم سے ہوجاتاہے جیسا کہعلقہ ہونے کی حالت میں جب نطفہ کا تعلق کسی قدر رحم سے ہو جاتاہے تو وہ لغو طور پر گر جانے یا بہ جانے یا اور طور پر ضائع ہوجانے سے امن میں آجاتاہے اِلَّاماشاء اللّٰہ ۔ سو روحانی وجود کے اس مرتبہ دوم میں خدائے رحیم سے تعلق بعینہٖ اُس تعلق سے مشابہ ہوتا ہے جو جسمانی وجود کے دوسرے مرتبہ پر علقہ کو