دوسرے جہان میں بھی یہ دونوں لذّتیں ہوں گی۔ مگر مشابہت میں اس قدر ترقی کر جائیں گی کہ ایک ہی ہو جائیں گی یعنی اُس جہان میں جو ایک شخص اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرے گا وہ اس بات میں فرق نہیں کر سکے گا کہ وہ اپنی بیوی سے محبت اور اختلاط کرتا ہے یامحبت الٰہیہ کے دریائے بے پایاں میں غرق ہے اور واصلانِ حضرتِ عزت پر اِسی جہان میں یہ کیفیت طاری ہو ؔ جاتی ہے جو اہلِ دنیا اور محجوبوں کے لئے ایک امر فوق الفہم ہے۔ اب ہم یہ تو بیان کرچکے کہ روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالتِ خشوع ہے جسمانی وجود کے پہلے مرتبہ سے جو نطفہ ہے مشابہت تام رکھتا ہے۔ اس کے بعد یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ روحانی وجود کا دوسرا مرتبہ بھی جسمانی وجود کے دوسرے مرتبہ سے مشابہ اور مماثل ہے۔ اِس کی تفصیل یہ ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ رُوحانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی 3۔۱؂ یعنی مومن وہ ہیں جو لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں اور لغو تعلقات سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے مقابل پرجسمانی وجود کا دوسرا مرتبہ وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام عزیزمیں عَلَقَہ کے نام سے موسوم فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3۲؂ یعنی پھر ہم نے نطفہ کو عَلَقَہ بنایا۔ یعنی ہم نے اُس کو لغو طور پر ضائع ہونے سے بچاکر رحم کی تاثیر اور تعلق سے عَلَقَہ بنا دیا۔ اس سے پہلے وہ معرض خطر میں تھا اور کچھ معلوم نہ تھا کہ وہ انسانی وجود بنے یا ضائع جائے۔ لیکن وہ رحم کے تعلق کے بعد ضائع ہونے سے محفوظ ہوگیا اور اس میں ایک تغیر پیدا ہوگیا جو پہلے نہ تھا۔ یعنی وہ ایک جمے ہوئے خون کی صورت میں ہوگیا۔ اور قوام بھی غلیظ ہوگیا اور رحم سے اس کا ایک علاقہ ہوگیااس لئے اس کانام عَلَقَہ رکھا گیا اور ایسی عورت حاملہ کہلانے کی مستحق ہوگئی ۔ اور بوجہ اس علاقہ کے رحم اس کا سرپرست بن گیا اور اس کے زیر سایہ نطفہ کا نشو ونما ہونے لگا۔ مگر اس حالت میں نطفہ نے کچھ زیادہ پاکیزگی حاصل نہیں کی۔