شعروں کے سننے اورسُرود کی تاثیر سے رقص اور وجد اور گریہ وزاری شروع کر دیتے ہیں اور اپنے رنگ میں لذّت اُٹھاتے ہیں۔ اور خیال کرتے ہیں کہ ہم خدا کو مل گئے ہیں۔ مگر یہ لذّت اُس لذّت سے مشابہ ہے جو ایک زانی کو حرامکار عورت سے ہوتی ہے۔ اورؔ پھر ایک اور مشابہت خشوع اور نطفہ میں ہے اور وہ یہ کہ جب ایک شخص کا نطفہ اس کی بیوی یا کسی اور عورت کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس نطفہ کا اندام نہانی کے اندر داخل ہونا اور انزال کی صورت پکڑ کر رواں ہو جانا بعینہٖ رونے کی صورت پر ہوتا ہے جیسا کہ خشوع کی حالت کا نتیجہ بھی رونا ہی ہوتا ہے اور جیسے بے اختیار نطفہ اُچھل کر صورت انزال اختیار کرتا ہے۔ یہی صورت کمال خشوع کے وقت میں رونے کی ہوتی ہے کہ رونا آنکھوں سے اُچھلتا ہے اور جیسی انزال کی لذّت کبھی حلال طور پر ہوتی ہے جب کہ اپنی بیوی سے انسان صحبت کرتاہے اور کبھی حرام طور پر جب کہ انسان کسی حرام کار عورت سے صحبت کرتاہے۔ یہی صورت خشوع اور سوزو گداز اور گریہ وزاری کی ہے یعنی کبھی خشوع اورسوزوگداز محض خدائے واحد لاشریک کے لئے ہوتاہے جس کے ساتھ کسی بدعت اور شرک کا رنگ نہیں ہوتا۔ پس وہ لذّت سوزوگداز کی ایک لذّت حلال ہوتی ہے مگر کبھی خشوع اور سوزوگداز اور اسکی لذّت بدعات کی آمیزش سے یا مخلوق کی پرستش اوربتوں اور دیویوں کی پوجا میں بھی حاصل ہوتی ہے مگر وہ لذّت حرامکاری کے جماع سے مشابہ ہوتی ہے۔ غرض مجردخشوع اور سوزوگداز اور گریہ وزاری اور اس کی لذّتیں تعلق باللہ کو مستلزم نہیں بلکہ جیسا کہ بہت سے ایسے نطفے ہیں جو ضائع جاتے ہیں اور رحم اُن کو قبول نہیں کرتا۔ ایسا ہی بہت سے خشوع اور تضرع اورزاری ہیں جومحض آنکھوں کو کھونا ہے اوررحیم خدا ان کو قبول نہیں کرتا۔ غرض حالتِ خشوع کو جوروحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے نطفہ ہونے کی حالت سے جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے ایک کھلی کھلی مشابہت ہے جس کو ہم تفصیل سے لکھ چکے ہیں اور یہ مشابہت کوئی معمولی امر نہیں ہے بلکہ صانع قدیم جلّ شانہٗ کے خاص ارادہ سے ان دونوں میں اکمل اور اتم مشابہت ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی کتاب میں بھی لکھا گیا ہے کہ