سبز کپڑے ۔ بال سرکے لمبے۔ ہاتھ میں تسبیح۔ آنکھوں سے دمبدم آنسوؔ جاری ۔ لبوں میں کچھ حرکت گویا ہر وقت ذکر الٰہی زبان پر جاری ہے۔ اور ساتھ اس کے بدعت کی پابندی۔ یہ علامتیں اپنے فقر کی ظاہر کرتے ہیں۔ مگر دلِ مجذوم محبتِ الٰہی سے محروم۔ اِلّاماشاء اللہ۔ راستباز لوگ میری اس تحریر سے مستثنیٰ ہیں جن کی ہر ایک بات بطور جوش اور حال کے ہوتی ہے نہ بطور تکلّف اور قَال کے، بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ گریہ وزاری اور خشوع اور خضوع نیک بندوں کے لئے کوئی مخصوص علامت نہیں بلکہ یہ بھی انسان کے اندر ایک قوت ہے جو محل اور بے محل دونوں صورتوں میں حرکت کرتی ہے۔ انسان بعض اوقات ایک فرضی قصہ پڑھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ فرضی اور ایک ناول کی قسم ہے مگر تاہم جب اس کے ایک دردناک موقعہ پر پہنچتا ہے تو اس کا دل اپنے قابو سے نکل جاتا ہے اور بے اختیار آنسوجاری ہوتے ہیں جو تھمتے نہیں۔ ایسے دردناک قصے یہاں تک مؤثر پائے گئے ہیں کہ بعض وقت خود ایک انسان ایک پُرسوز قصہ بیان کرنا شروع کرتا ہے اور جب بیان کرتے کرتے اس کے ایک پُردرد موقعہ پر پہنچتا ہے تو آپ ہی چشم پُر آب ہو جاتا ہے اور اس کی آواز بھی ایک رونے والے شخص کے رنگ میں ہو جاتی ہے آخر اس کارونا اچھل پڑتا ہے اور جو رونے کے اندر ایک قسم کی سرور اور لذّت ہے وہ اس کو حاصل ہو جاتی ہے اور اس کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ جس بنا پر وہ روتا ہے وہ بنا ہی غلط اور ایک فرضی قصہ ہے ۔ پس کیوں اور کیاوجہ کہ ایسا ہوتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ سوز و گداز اور گریہ وزاری کی قوت جو انسان کے اندر موجود ہے اُس کو ایک واقعہ کے صحیح یاغلط ہونے سے کچھ کام نہیں بلکہ جب اس کے لئے ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو اس قوت کو حرکت دینے کے قابل ہوتے ہیں تو خواہ نخواہ وہ رقّت حرکت میں آجاتی ہے اور ایک قسم کا سرور اور لذّت ایسے انسان کو پہنچ جاتا ہے گو وہ مومن ہو یاکافر ۔ اسی وجہ سے غیر مشروع مجالس میں بھی جو طرح طرح کی بدعات پر مشتمل ہوتی ہیں بے قید لوگ جو فقیروں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں مختلف قسم کی کافیوں اور