جیسا کہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں ظاہر ہے کہ پہلامرتبہ روحانی ترقی کا یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی 3 یعنی وہ مومن نجات پاگئے جو اپنی نماز اور یاد الٰہی میں خشوع اور فروتنی اختیار کرتے ہیں اور رقّت اور گدازش سے ذکر الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس کے مقابل پر پہلا مرتبہ جسمانی نشو و نما کا جو اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے یعنی 3 یعنی پھر ہم نے انسان کو نطفہ بنایا اور وہ نطفہ ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ سو خدا تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے بعد پہلا مرتبہ انسانی وجود کا جسمانی رنگ میں نطفہ کو قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نطفہ ایک ایسا تخم ہے جو اجمالی طور پر مجموعہ ان تمام قویٰ اور صفات اوراعضاء اندرونی اور بیرونی اور تمام نقش و نگار کا ہوتا ہے جو پانچویں درجہ پر مفصل طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں اور چھٹے درجہ پراتم اور اکمل طور پر اُن کا ظہور* ہوتا ہے اور با ایں ہمہ نطفہ باقی تمام درجات سے زیادہ تر معرضِ خطر میں ہے۔ کیونکہ ابھی درجات سے مراد وہ درجے ہیں جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔ پانچواں درجہ وہ ہے جب قدرت صانع مطلق سے انسانی قالب تمام و کمال رحم میں تیار ہو جاتا ہے۔ اور ہڈیوں پر ایک خوشنما گوشت چڑھ جاتا ہے۔ اور چھٹا درجہ وہ ہے جب اس قالب میں جان پڑ جاتی ہے۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ حالتِ خشوع اور عجز و نیاز اور سوز و گداز ہے اور درحقیقت وہ بھی اجمالی طور پر مجموعہ اُن تمام امور کا ہے جو بعد میں کھلے طور پر انسان کے روحانی وجود میں نمایاں ہوتے ہیں۔ منہ