یہ بار ثبوت اُس کی گردن پر ہوگا کہ یہ پاک فلاسفی کسی انسان کی کتاب میں سے دکھلاوے اور یہ یاد رہے کہ وہ ایسا ہرگز ثابت نہیں کرسکے گا۔ پس بدیہی طور پر یہ معجزہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے وہ عمیقؔ مناسبت جو روحانی اور جسمانی وجود کی اُن ترقیات میں ہے جو وجود کامل کے مرتبہ تک پیش آتی ہیں ان آیات مبارکہ میں ظاہر کردی ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ ظاہری اور باطنی صنعت ایک ہی ہاتھ سے ظہور پذیر ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کاہاتھ ہے۔ بعض نادانوں نے یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے نطفہ کی حالت سے لے کر اخیر تک جسمانی وجود کا قرآن شریف میں نقشہ کھینچا ہے یہ نقشہ اس زمانہ کی جدید تحقیقات طبی کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ لیکن اُن کی حماقت ہے کہ ان آیات کے معنی انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ گویا خدا تعالیٰ رحم کے اندر انسانی وجود کو اس طرح بناتا ہے کہ پہلے بکلّی ایک عضو سے فراغت کرلیتا ہے پھر دوسرا بناتا ہے ۔ یہ آیات الٰہیہ کا منشا نہیں ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے بچشم خود ملاحظہ کر لیا ہے اور مُضغہ سے لے کر ہرایک حالت کے بچے کو دیکھ لیا ہے۔ خالق حقیقی رحم کے اندر تمام اعضاء اندرونی و بیرونی کو ایک ہی زمانہ میں بناتا ہے یعنی ایک ہی وقت میں سب بنتے ہیں تاخیر تقدیم نہیں۔ البتہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے تمام وجود انسان کا ایک جما ہوا خون ہوتاہے اور پھر سارے کا سارا ایک ہی وقت میں مُضغہ بن جاتا ہے اور پھر ایک ہی وقت میں کچھ حصہ اس کا اپنے اپنے موقعہ پر ہڈیاں بن جاتا ہے اور پھر ایک ہی وقت میں اس تمام مجموعہ پر ایک زائد گوشت چڑھ جاتا ہے جو تمام بدن کی کھال کہلاتی ہے جس سے خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ اور اس مرتبہ پر جسمانی بناوٹ تمام ہو جاتی ہے اور پھر جان پڑ جاتی ہے ۔ یہ وہ تمام حالتیں ہیں جو ہم نے بچشم خود دیکھ لی ہیں۔ اب ہم روحانی مراتب ستّہ کاذیل میں ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (۱)3(۲)3(۳) 3۱؂ (۴)333 333(۵)3(۶) 3 3۱؂اورؔ ان کے مقابل جسمانی ترقیات کے مراتب بھی چھ قرار دیئے ہیں جیسا کہ وہ ان آیات کے بعد فرماتا ہے:۔(۱)3(۲)33(۳) 3 (۴)3 (۵)3(۶)3۲؂