وہ اُس تخم کی طرح ہے جس نے ہنوز زمین سے کوئی تعلق نہیں پکڑا۔ اور ابھی وہ رحم کی کشش سے بہرہ ور نہیں ہوا ممکن ہے کہ وہ اندام نہانی میں پڑ کر ضائع ہو جائے جیسا کہ تخم بعض اوقات پتھریلی زمین پر پڑ کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ وہ نطفہ بِذاتہاناقص ہو یعنی اپنے اندر ہی کچھ نقص رکھتا ہو اور قابل نشوونما نہ ہو۔ اور یہ استعداد اُس میں نہ ہو کہ رحم اس کو اپنی طرف جذب کرلے اور صرف ایک مُردہ کی طرح ہو جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔ جیساؔ کہ ایک بوسیدہ تخم زمین میں بویا جائے۔ اور گو زمین عمدہ ہو مگر تاہم تخم بوجہ اپنے ذاتی نقص کے قابلِ نشو و نما نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ بعض اور عوارض کی وجہ سے جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں نطفہ رحم میں تعلق پذیر نہ ہوسکے اور رحم اس کو اپنی کشش سے محروم رکھے ۔ جیسا کہ تخم بعض اوقات پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے یا پرندے اس کو چُگ جاتے ہیں یا کسی اور حادثہ سے تلف ہو جاتا ہے۔
یہی صفات مومن کے روحانی وجود کے اوّل مرتبہ کے ہیں اور اوّل مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الٰہی میں مومن کو میسر آتی ہے یعنی گدازش اور رقت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا۔ اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کرکے خدائے عزّوجلّ کی طرف دل کوجھکانا جیسا کہ اِس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے3 3۔ یعنی وہ مومن مراد پاگئے جو اپنی نماز میں اور ہر ایک طور کی یادِ الٰہی میں فروتنی اور عجزونیاز اختیار کرتے ہیں۔ اور رقت اور سوزوگداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے ربّ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی طیّاری کے لئے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلا تخم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے اور وہ اجمالی طور پر ان تمام قویٰ اور صفات اور اعضاء اور تمام نقش و نگار اور حسن و جمال اور خط و خال اور شمائل روحانیہ پر مشتمل ہے۔