مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے ؔ ضروری ہے کہ وہ کلام جو غیر کا کلام کہلاتا ہے قرآنی سورتوں میں سے کسی سورت کے برابر ہو۔ کیونکہ اعجاز کیلئے اسی قدر معتبر سمجھا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ 3۱؂ یہ نہیں فرمایا کہ فَاْتُوْا بِآ یَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ یا فَاْتُوْا بِکَلِمَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ۔اور درحقیقت یہ سچ ہے کہ خدا کے کلمات علیحدہ علیحدہ تو وہی کلمات ہیں جو کفار کی زبان پر بھی جاری تھے۔ پھر رنگینی عبارت اور نظم کلام اور دیگر لوازم کے لحاظ سے وہی کلمات بحیثیت مجموعی ایک معجزہ کے رنگ میں ہوگئے اور جو معجزہ خدا تعالیٰ کے افعال میں پایا جاتا ہے اس کی بھی یہی شان ہے یعنی وہ بھی اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے جیسا کہ کلام اپنی حیثیت مجموعی سے معجزہ بنتا ہے۔ ہاں خدا تعالیٰ کے منہ سے جو چھوٹے چھوٹے فقرے نکلتے ہیں وہ اپنے مطالب عالیہ کے لحاظ سے جو اُن کے اندر ہوتے ہیں انسانی فقرات سے امتیاز کلّی رکھتے ہیں۔ یہ امر دیگر ہے کہ انسان ان کے پوشیدہ حقائق معارف تک نہ پہنچے مگر ضرور ان کے اندر انوارِ مخفیہ ہوتے ہیں جو ان کلمات کی رُوح ہوتے ہیں۔ جیسا کہ یہی کلمہ 3۲ ؂ اپنی گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ایک امتیازی رنگ اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی اس قسم کی روحانی فلاسفی اس کے اندر بھری ہوئی ہے کہ وہ بجائے خود ایک معجزہ ہے جس کی نظیر انسانی کلام میں نہیں ملتی۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورۃ کے ابتدا میں جو سورۃ المؤمنون ہے جس میں یہ آیت 3 ہے اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ کیونکر انسان مراتب سِتّہ کو طے کرکے جو اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں اپنے کمال روحانی اور جسمانی کو پہنچتا ہے ۔ سو خدا نے دونوں قسم کی ترقیات کو چھ۶ چھ۶ مرتبہ پر تقسیم کیاہے اورمرتبہ ششم کو کمال ترقی کا مرتبہ قرار دیا ہے اور یہ مطابقت روحانی اور جسمانی وجود کی ترقیات کی ایسے خارقِ عادت طور پر دکھلائی ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے کبھی کسی انسان کے ذہن نے اس نکتہ معرفت کی طرف سبقت نہیں کی۔ اور اگرکوئی دعوے کرے کہ سبقت کی ہے تو