ان عبداللّٰہ بن سعد بن ابی سرح کان یکتب ھذہ الاٰیات لرسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم فلما انتھی الٰی قولہ تعالٰی خلقًا اٰخرعجب من ذالک فقال فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین ۔ فقال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم اُکتب فھٰکذا نزلت، فشکّ عبد اللّٰہ وقال ان کان محمد صادقًا فیما یقول فانہ یوحٰی اِلیَّ کما یوحٰی الیہ وان کان کاذبًا فلا خیر فی دینہ فھرب الٰی مکّۃ فقیل انہ مات علی الکفر وقیل انہ اسلم یوم الفتح۔ ترجمہ یہ ہے کہ کلبی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے کہ عبد اللہ ابن ابی سرح قرآن شریف کی آیات لکھا کرتا تھا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روبرو جیسی آیت نازل ہوتی تھی اُس سے لکھواتے تھے۔ پس جب وہ آیت لکھوائی گئی جو خلقاً اٰخر تک ختم ہوتی ہے تو عبد اللہ اس آیت سے تعجب میں پڑ گیا۔ اور عبد اللہ نے کہا فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی لکھ لے کیونکہ خدا نے بھی یہی فقرہ جو تیرے منہ سے نکلا ہے یعنی فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین نازل کردیا ہے۔ پس عبد اللہ شک میں پڑ گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو میری زبان کا کلمہ ہے وہی خدا کا کلمہ ہوگیا۔ اور اُس نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے میں صادق ہے تو مجھے بھی وہی وحی ہوتی ہے جو اُسے ہوتی ہے اور اگر کاذب ہے تو اس کے دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ پھر وہ مکّہ کی طرف بھاگ گیا ۔ پس ایک روایت یہ ہے کہ وہ کفر پر مرگیا اور ایک یہ بھی روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوگیا۔
اب دیکھو عبد اللہ ابن ابی سرح کے کلام سے خدا تعالیٰ کے کلام کا توارد ہوا یعنی عبد اللہ کے مُنہ سے بھی یہ فقرہ نکلا تھا فتبارک اللّٰہ احسن الخالقیناور خدا تعالیٰ کی وحی میں بھی یہی آیا۔ اور اگر کہو کہ پھر خدا تعالیٰ کے کلام اور انسان کے کلام میں مابہ الامتیاز کیا ہوا؟ تو اوّل تو ہم اس کا یہی جواب دیتے ہیں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آپ قرآن شریف میں فرمایا ہے