حضورش پریشاں شدد کارزشت
سفر کرد و بر طاقِ مسجد نوشت
در آئینہ گر روئے خود دیدمے
بہ بیدانشی پردہ ندریدمے
اب میں محمد اکرام اللہ خان صاحب شاہجہان پوری کے ان اعتراضات کا جواب لکھ چکا جو روزانہ پیسہ اخبار مؤرخہ ۲۲ مئی ۱۹۰۵ء کے صفحہ ۵ میں چھپے ہیں۔ لیکن بعد اس کے میرے دوست مولوی عبد الکریم صاحب کے نام ایک صاحب نے جنہوں نے اپنا نام اپنے خط میں ظاہر نہیں کیا ایک خط بھیجا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کاواسطہ ڈال کر چند اعتراضات کاجواب مانگا ہے جو انہیں پیشگوئیوں کے متعلق ہیں۔ اگرچہ ان اعتراضات کاجواب کافی طور پر اسی حصہ براہین میں آچکا ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کاواسطہ دے کر معترض صاحب کی درخواست ہے اس لئے ہم تکرار کلام کی کچھ پروا نہ رکھ کر محض لِلّٰہ صاحب موصوف کے اعتراضات کا جواب برعایت اختصار ذیل میں دیتے ہیں۔
قولہ:عفت الدیارمحلّھا و مقامھا کا فقرہ جسے جناب مقدس مرزا صاحب اپنا الہام و وحی فرما رہے ہیں ایک پرانے شاعر کا مصرع ہے ۔کیا کسی نبی کو کبھی ایسی وحی ہوئی جس کے الفاظ حرفاً حرفاً وہی ہوں جو اس نبی سے پہلے کسی آدمی کی زبان سے نکل چکے ہوں۔ اگر آپ یہ ثابت کرسکیں تو دوسرا اعتراض یہ ہوگا کہ اس صورت میں خدا کے قول اور بندہ کے قول میں فرق کیا ہوگا۔
اقول۔ اس بارہ میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اورنبیوں کو تلاش کرنا کچھ ضروری نہیں خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض ایسے فقرے وحی الٰہی کے نازل ہو چکے ہیں جو پہلے وہ کسی آدمی کے منہ سے نکلے تھے۔ جیسا کہ یہ فقرہ وحی فرقانی یعنی3۔۱ یہ فقرہ پہلےؔ عبد اللہ بن ابی سرح کی زبان سے نکلا تھا۔ اور وہی فقرہ وحی قرآنی میں نازل ہوا۔دیکھو تفسیر کبیر الجزء السادس صفحہ ۲۷۶ مطبوعہ مصر۔ اصل عبارت یہ ہے۔ روی الکلبی عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما۔