اقول۔ اے متعصب نادان! تجھے کب اتفاق ہوا ہے کہ تو میری پیشگوئیوں کو غور سے دیکھتا اور اُن سب پراطلاع پاتا۔ اور تجھے کب اتفاق ہوا کہ میری صحبت میں رہتا اور میرے نشانوں کو بچشم خود دیکھتا۔ میں تجھے کس سے مشابہت دوں۔ تو اُس اندھے سے مشابہ ہے جو سورج کے وجود سے انکار کرتاہے اور اپنی نابینائی کی طرف نہیں دیکھتا۔ ہرایک واقف حال سمجھ سکتا ہے کہ کیا میری پیشگوئیوں کاحال ابتر ہے یا تیرے ایمان کاہی حال ابتر ہے۔ عقلمندوں کے لئے تیرے اعتراضات کا یہی نمونہ کافی ہے کہ جو بات تمام انبیاء کے نزدیک مسلّم ہے اور تمام فرقہ ہائے اسلام کے نزدیک مسلّم ہے وہی بات تیرے نزدیک جائے اعتراض ہے۔ ہائے افسوس کیا یہی لوگ اسلام کے لیڈر بننا چاہتے ہیں جن کو خدا کی تعلیم اور اسلام کے عقیدہ کی بھی خبر نہیں اِنّا لِلّٰہ وَاِنّا اِلَیْہ راجِعُوْن۔
اے ظالم معترض کیا اسی سرمایہ پر قلم اٹھایا تھا؟گو تعصب کا جوش تھا مگر اپنی جہالت کو دکھلانا کیا ضرور تھا۔ ہر ایک بات سراسر جھوٹ ہر ایک شبہ محض شیطانی وسوسہ۔اس علم اور واقفیت کے ساتھ تیرے دل میں کیوں گدگدی اُٹھی کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی پر اعتراض کرے اگر تم خاموش رہتے تو بہتر تھا۔ ناحق گناہ خریدا اور زبان کے ذریعہ سے اپنی پوشیدہ نادانی پر سب کو مطلع کردیا اور پبلک میں اپنی رُسوائی کرائی اور اپنی حالت پر شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کی وہ مثل صادق کرلی جو بوستان میں ہے اور وہ یہ ہے :-
یکے نیک خلق و خَلَق پوش بود
کہ در مصر یک چند خاموش بود
جہانے برو بود از صدق جمع
چو پروانہ ہا وقتِ شب گرد شمع
شبےؔ در دِل خویش اندیشہ کرد
کہ پوشیدہ زیر زبان است مَرد
اگر ماند فطنت نہان در سرم
چہ دانند مردم کہ دانش وَرم
سخن گفت و دشمن بدانست و دوست
کہ درمصر ناداں تر از وے ہموست