توخدا تعالیٰ کی تمام کتابیں اس سے باطل ٹھہر یں گی۔ اور تمام نظام دین کا اس سے درہم برہم ہو جائے گا۔معترض نے اسلام پر یہ سخت حملہ کیاہے اور نہ صرف اسلام پر بلکہ تمام نبیوں پر یہ حملہ ہے اور اگر عمدًایہ حملہ نہیں کیا تو اسلام اور شریعت سے سخت ناواقفیت اُس کی ثابت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں سے ایمانداروں کو متنبہ رہنا چاہیئے کہ میرے پر حملہ کرنے سے ان کا ارادہ صرف میرے پر حملہ نہیں ہے بلکہ دین اسلام کی اُن کو کچھ پروا نہیں اور اسلام کے وہ چھپے دشمن ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے دین کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔
اس ناسمجھ کو یہ بھی توخبر نہیں کہ جیسے خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ واستغفار اور دُعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اُس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہوگئے تھے۔ ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے د ووقتہ روٹی کھاتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی33 3 ۱ تب حضرت ابوبکر نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگادی ۔ اسی بناء پر اسلامی اخلاق میں یہ داخل ہے کہ اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائےؔ تو اُس کاتوڑنا حُسنِ اخلاق میں داخل ہے۔ مثلاً اگر کوئی اپنے خدمتگار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچا۵۰س جوتے ماروں گا تو اس کی توبہ اور تضرع پرمعاف کرنا سنت اسلام ہے تا تخلق باخلاق اللّٰہ ہو جائے مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں ترکِ وعدہ پر باز پُرس ہوگی مگر ترکِ وعید پر نہیں۔
قولہ: اور پیشگوئیوں کاحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔