پس یہ تو ضروری امر تھا کہ احمد بیگ کے داماد کا گروہ احمد بیگ کی موت کو دیکھ کر اپنے دلوں میں بہت ڈرتا۔ سو خدا نے اپنے وعدہ کے موافق جب ان لوگوں کا خوف دیکھا تو داماد کی وفات کے متعلق جو پیشگوئی تھی اس میں تا خیر ڈال دی۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم اور پنڈت لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی وفات کی تھی اُس میں ظہور میں آیا۔ کیونکہ ڈپٹی عبد اللہ آتھم نے وفات کی پیشگوئی سُن کر بہت خوف ظاہر کیا اس لئے اس کی موت میں تاخیر ڈال دی گئی۔ اور مقرر شدہ دنوں سے کچھ مہینے زیادہ زندہ رہا۔ لیکن لیکھرام نے پیشگوئی کو سن کر بہت شوخی ظاہر کی اور بدگوئی میں حد سے زیادہ بڑھ گیا اس لئے وہ اصلی میعاد سے بھی پہلے ہی اس جہان سے اٹھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی پیشگوئیاں جو خدا کے رسول کرتے ہیں جن میں کسی کی موت یا اور بلا کی خبر ہوتی ہے وہ وعید کی پیشگوئیاں کہلاتی ہیں۔ اور سنت اللہ ہے کہ خواہ اُن میں کوئی شرط ہو یا نہ ہو وہ تو بہ استغفار سے ٹل سکتی ہیں یا اُن میں تاخیرڈال دی جاتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی پیشگوئی میں وقوع میں آیا۔ اور یونس نبی نے جو اپنی قوم کے لئے چالیس۴۰ دن تک عذاب آنے کا وعد ہ کیا تھاوہ قطعی وعدہ تھا۔ اُس میں ایمان لانے یا ڈرنے کی کوئی شرط نہ تھی۔ مگر باوجود اس کے جب قوم نے تضرع اور زاری اختیار کیؔ تو خدا تعالیٰ نے اس عذاب کو ٹال دیا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے یہ تسلیم شدہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک بلا جو خدا تعالیٰ کسی بندہ پر نازل کرنا ارادہ کرتا ہے وہ بلا صدقہ اور خیرات اور توبہ او راستغفار اوردعا سے دفع ہوسکتی ہے پس اگر وہ بلا جس کانازل کرناارادہ کیا گیا ہے کسی نبی اور رسول اور مامورمن اللہ کو اُس سے اطلاع دی جائے تو وہ وعید کی پیشگوئی کہلاتی ہے۔ اورچونکہ وہ بلا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق توبہ و استغفار اور صدقہ خیرات اور دُعا و تضرّع سے دفع ہوسکتی ہے۔ یااس میں تاخیر پڑسکتی ہے۔ اور اگر وہ بلاجو پیشگوئی کے رنگ میں ظاہر کی گئی ہے صدقہ خیرات وغیرہ سے دُور نہ ہوسکے