سے بھی نشان ظاہر ہوئے۔ اور آسمان سے بھی اور دوستوں میں بھی اور دشمنوں میں بھی اور کوئی مہینہ شاذ و نادر اس سے خالی جاتا ہوگاکہ کوئی نشان ظاہر نہ ہو۔ اور اب بھی فوق العادت نشان کا وعدہ ہے جس کانام قیامت خیز زلزلہ رکھا گیا ہے جو دنیا کو وہ ہاتھ دکھائے گا جس کو کبھی دنیا نے دیکھانہیں ہوگا۔ پس اگر خدا کاخوف ہے تو کیوں کچھ عرصہ تک صبر نہیں کیا جاتا۔ یہ زلزلہ محض اس لئے ہوگا کہ تا خدا صادق کے صدق کو ظاہر کرے اور انسانوں کو موقع دے کہ وہ راستی کو ایک چمکتے ہوئے نشان کے ساتھ دیکھ لیں اگرچہ اس کے بعد ایمان لانا کچھ بہت قابلِ عزت نہیں ہوگا۔ مگر تاہم قبول کرنے والے اس رحمت سے حصہ لیں گے جو ایمان داروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔
قولہ: کیااحمد بیگ کی لڑکی کا قصہ مرزائی الہامات کی رونق کو دُور نہیں کرتا؟
اقول۔ اے معترض صاحب ! کیا پہلے بیہودہ اعتراضات کی ندامت آپ کے لئے کچھ تھوڑی تھی کہ اس لغو اعتراض کی ندامت کا بھی آپ نے حصہ لے لیا۔ اب آپ کان کھول کر سنیئے کہ اس پیشگوؔ ئی کے دو حصہ تھے اور دونوں شرطی تھے۔ ایک حصہ شرطی طور پر احمد بیگ کی وفات کے متعلق تھا ۔ یعنی اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی قرارداد شرطوں کا پابند نہ ہو تو تین برس پورے ہونے سے پہلے ہی فوت ہو جائے گا۔ اور نہ صرف وہی بلکہ اس کے ساتھ اور کئی موتیں اس کے اقارب کی ہوں گی ۔ پس چونکہ وہ شوخی کی راہ سے کسی شرط کا پابند نہ ہوسکا اس لئے خدا نے اس کو میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی اس جہان سے اُٹھا دیا اور کئی موتیں اور بھی ساتھ ہوئیں ۔ مگر دوسراحصہ پیشگوئی کا جو احمد بیگ کے داماد کی نسبت تھا اُس میں اس وجہ سے تاخیرڈال دی گئی کہ باقی ماندہ لوگوں نے شرط کے مضمون سے اپنے دلوں میں خوف پیدا کیا اور بہت ڈرے اور یہ بات ہرایک کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اگر دو شخص کی موت کی نسبت کوئی پیشگوئی ہو۔ اور ایک اُن میں سے میعاد کے اندر مر جائے تو طبعاً دوسرے کے دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے۔