ظاہر کردے گا۔ فلمّا تجلّٰی ربّہ للجبل جعلہ دکّا۔ قوۃ الرحمن لِعُبَیْدِ اللّٰہِ الصَّمد عربی الہام کا ترجمہ یہ ہے کہ جب خدا پہاڑ پر تجلی کرے گا تو اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ خدا ایسا کرے گا تا اپنے بندہ کی سچائی ظاہر کرے۔
اب سوچ کر دیکھو کہ میں نے اس میں اپنی طرف سے کیا بنایا۔ اس جگہ خدا تعالیٰ خود ایک چمکار دکھانے کا وعدہ کرتاہے۔ جیسا کہ کوہ طور پرموسیٰ کے لئے چمکار ظاہرہوئی اور ایک ایسی قدرت نمائی کا وعدہ کرتا ہے جو خارق عادت اور میری رفعت کاموجب ہوگی۔ اور پھر تیسری دفعہ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ خدا بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔ اور پھر آخر میں اس زور آور حملہ اور اپنی چمکار اوراپنی قدرت نمائی کی شرح کرتا ہے جس کا اوپر ذکر کیا ہے اور فرماتا ہے کہ خدا ایک خاص پہاڑ پر تجلی کرے گا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرؔ دے گا۔ اب اگر آپ کی آنکھ تعصب سے کچھ دیکھ نہیں سکتی تو کسی اور منصف مزاج سے پوچھ لو کہ اس الہامی عبارت میں کسی عظیم الشان نشان کاوعدہ دیا گیا ہے یا خاص ہماری بناوٹ ہے اور اگروعدہ ہے تو کیا پیشگوئی کے الفاظ سے یہی نکلتا ہے کہ نشان کے طور پر پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا یا کچھ اور نکلتا ہے ۔ رہا یہ اعتراض کہ اس وقت ہمارے ذہن کا اس طرف انتقال نہ ہوا کہ درحقیقت پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا یہ ایسی ہی صورت ہے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن کا اس طرف انتقال نہ ہوا کہ جو ہجرت کی جگہ کشفی طور پر دکھائی گئی کہ وہ مدینہ ہے، یمامہ یاہجر نہیں ہے۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ذہن کا اس طرف انتقال نہ ہوا کہ حدیبیہ والے سفر میں مکہ کے اندر نہیں جاسکیں گے اور نہ طواف خانہ کعبہ کرسکیں گے۔ پس اگر آپ کے ایسے ہی اعتراض ہیں جو اس زمانہ کے نابکار کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں پر کرتے ہیں تو مجھے تو یہ فکر پڑگئی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی دن آپ اسلام سے ہی ہاتھ دھوئیں۔
اب یاد رہے کہ خدا تعالیٰ نے پیشگوئی متذکرہ بالا میں جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں