خسف کی صورت پر ہو اور کوئی زلزلہ محسوس نہ ہو اور زمین تہ و بالا ہو جائے یا کوئی اور خارقِ عادت آفت ظہور پذیر ہو جس کی طرف انسانی علم نے کبھی سبقت نہیں کی۔ پس بہرحال وہ معجزہ ہے۔ ہاں اگر وہ شدید آفت ظاہر نہ ہوئی جو دنیا میں ایک زلزلہ ڈال دے گی جو وحی الٰہی کے ظاہر الفاظ کی رو سے زلزلہ کے رنگ میں ہوگی یا کوئی معمولی امر ظہور میں آیا جس کو دنیا ہمیشہ دیکھتی ہے جو خارق عادت اور غیر معمولی نہیں اور جو سچ مچ قیامت کانمونہ نہیں اور یا وہ حادثہ میری زندگی میں ظاہر نہ ہوا۔ تو بیشک نقارہ بجاکر میری تکذیب کرو اور مجھے جھوٹا سمجھو۔ غرض تو اس حادثہ عظمیٰ سے یہ ہے جو نمونہ قیامت ہوگا اور دنیا کو ایک آن میں تباہ کرجائے گا۔ اور ہزاروں انسانوں کو ہماری جماعت میں داخل کرے گا۔
قوؔ لہ۔ آ پ نے موقع دیکھ کر براہین احمدیہ کی عبارتوں کو بھی زلزلہ پر چسپاں کیا۔ حالانکہ ان عبارتوں میں زلزلہ کا ذکر نہیں۔
اقول۔ یہ اسی طرح کا اعتراض ہے جو اس زمانہ میں متعصب پادری قرآن شریف کی اس پیشگوئی پر کرتے ہیں۔3۱ اور کہتے ہیں کہ موقع دیکھ کریہ پیشگوئی اپنی اٹکل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بنائی اور رومی سلطنت کے غلبہ کی محض اس خیال سے پیشگوئی کی کہ رومی طاقت دراصل بڑھی ہوئی تھی جنگی سامان پورے تھے۔ فوج تجربہ کار بہادر تھی اور ایرانی سلطنت کی حالت اس کے برعکس تھی اس لئے موجودہ حالات کو دیکھ کر پیشگوئی کردی۔ پس مجھے تعجب ہے کہ پادریوں کی عادت اور خصلت کہاں سے آپ میں آگئی۔ ظالم طبع پادری قرآن شریف کی تمام پیشگوئیوں پر یہی اعتراض کرتے ہیں جو آپ نے کیا۔ توبہ کرو ایسا نہ ہو کہ اس مشابہت سے بڑھ کر کوئی اور ترقی کرلو اور اپنے اعتراض کو ذرا آنکھ کھول کر دیکھو کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ میں یہ پیشگوئی ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنی چمکار دکھاؤ ں گا اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی