موجود ہے ایک صریح اشارہ کے ساتھ زلزلہ کا ذکر کردیا ہے کیونکہ آیت33۱؂ اس موقع کی آیت ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے کوہِ طور پر ایک زلزلہ ڈال کر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا جیسا کہ یہ بیان مفصل توریت میں موجود ہے پس اس صورت میں آپ کی اس حرکت کا نام تعصب رکھیں یا نادانی رکھیں؟ جو آپ کہتے ہیں کہ ان عبارتوں میں کہیں زلزلہ کا ذکر نہیں۔بندہ ء خدا اگر زلزلہ کا ذکر نہیں تو تمہیں اس بات سے بھی انکار کرنا چاہیئے کہ کوہِ طور بھی زلزلہ سے ٹکرے ٹکڑے ہوگیا تھا۔ قولہ۔عفت الدیارکے مصرع کے یہ معنے ہیں کہ زمانہ گذشتہ میں مکان برباد ہوگئے تھے۔ اقول۔ الحمد للہ! یہ تو آپ نے مان لیا کہ عفت الدیار محلھا و مقامھاکے یہی معنی ہیں کہ مکانات گر جانا اور برباد ہو جانا۔ باقی رہا یہ کہ آپ عفت کے لفظ کو ماضی کے معنوں تک محدود رکھتے ہیں۔ اس خیال کے ردمیں ہم قرآن شریف کے نظائر پیش کرچکے ہیں بلکہ اس کے لئے تو تمام عربؔ کے باشندے ہمارے گواہ ہیں۔ اب بتلاؤ کیا اب بھی یہ پیشگوئی خارق عادت ہے یا نہیں اگر یہ کہو کہ اس میں کوئی وقت نہیں بتلایا گیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ کو یہ منظور ہوتا ہے کہ ان کا وقت مخفی رکھا جائے اُن میں وہ ہرگز نہیں بتلاتا کہ فلاں وقت وہ پیشگوئی پوری ہوگی۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ صاف لفظوں میں فرماتا ہے کہ زلزلہ کی پیشگوئی ایسے وقت میں ظاہر ہوگی جب کہ کسی کو خبر نہیں ہوگی اور ناگہانی طور پر وہ حادثہ ظہور میں آئے گا۔ تو پھر اس حادثہ کا وقت بتلانا اپنے ہی قول کی مخالفت ہے۔ دیکھو اشتہارالنداء صفحہ ۱۴۔اور اگر کہو کہ پھر تعیّن کے بغیر پیشگوئی میں خصوصیت کیا ہوئی۔ یوں تو کبھی کبھی دنیا پر کوئی حادثہ آجاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعیّن کافی ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ میری زندگی میں میری تصدیق کے لئے یہ حادثہ آئے گا اور اس وقت کے کروڑہا لوگ زندہ ہوں گے جو یہ حادثہ دیکھ لیں گے اور حادثہ ایسا ہوگا کہ اس ملک میں پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں ہوگی۔ پس یہ تعیین کافی ہے کہ وہ قیامت خیز زلزلہ میری