ہی نہیں۔ اور یہ کچھ نیا طریق نہیں۔ پہلے زمانوں میں بھی وہ لوگ جن کو حق کو قبول کرناکسی طرح منظور نہ تھا یہی طریق اختیار کرتے آئے ہیں۔ شاید آپ تعصّب کے جوش سے یہ بھی اعتراض کردیں کہ خداتعالیٰ نے زلزلہ کے آنے کی پانچ ماہ پہلے خبردی جو الحکم ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء ؁ کو شائع ہوئی اور پھر زلزلہ کی شدت کی نشانیاں اور اس کا ہولناؔ ک نتیجہ پانچ ماہ بعدبذریعہ اپنی وحی کے بیان کیا۔ یکجا کیوں بیان نہ کیا۔ لیکن اگر آپ ایسااعتراض کریں تو یہ اعتراض بھی نیا نہیں ہوگا بلکہ یہ وہی اعتراض ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے ابوجہل ملعون اور ابو لہب ملعون نے قرآن شریف پر کرکے کہا تھا۔33۔ ۱؂ سو ایسا اعتراض تَشابَہَتِ الْقُلُوب میں داخل ہوگا جس سے ایک مسلمان کو پرہیز کرناچاہیئے۔ قولہ۔ آپ نے اس الہام میں یہ بھی نہیں بتایا کہ زلزلہ سے مراد کیاہے۔ اقول۔ ظاہر وحی الٰہی میں زلزلہ کا لفظ ہے مگر ایسا زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ ہوگا اور یہ کہ اس سے ہزارہا مکان گر یں گے کئی بستیاں نابود ہو جائیں گی اور اس کی نظیر پہلے زمانہ میں نہیں پائی جائے گی۔ اور ناگہانی طور پرہزارہا آدمی مر جائیں گے اور ایسا واقعہ ہوگا جو پہلے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہوگا۔ پس اس صورت میں مکانوں کا گرنا اور ہزاروں لوگوں کا یک دفعہ مرجانااور ایک خارق عادت امر ظاہر ہونا اصل مقصود پیشگوئی ہے۔ اور اگرچہ ظاہر الفاظ پیشگوئی سے زلزلہ سے مراد بلا شبہ زلزلہ ہی سمجھا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ ادب اسی بات کو چاہتا ہے کہ ہم اصل مقصود کو جو ایک خارق عادت امر ہے اور معجزہ ہے مدِّنظر رکھیں اور زلزلہ کی کیفیت میں دخل نہ دیں کہ وہ کس طرح کا ہوگا اور کس رنگ کا ہوگا۔ گو ظاہر الفاظ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ زلزلہ ہی ہوگا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ کوئی اور آفت شدید ہو جس کی نظیر پہلے دنیا میں نہیں دیکھی گئی۔ اور زلزلہ کی کیفیت اور خاصیت اپنے اندر رکھتی ہو مثلاً