نہیں کرسکتے وہ قیامت آپ پر آگئی یا نہیں؟ ہر یک سمجھ سکتا ہے کہ اُس قیامت نےؔ ضرور آپ کو پکڑ لیا۔ کیونکہ جس زلزلہ کی پیشگوئی سے آپ منکر ہیں اس کا صریح طورپر ذکر ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء کے اخبار الحکم کے صفحہ ۱۵ کالم نمبر ۲ میں موجود ہے ۔ ذرا آنکھیں کھولو اور پڑھ لو اور کسی چپنی میں پانی ڈال کر ڈوب مرو۔ پس یہی زلزلہ مذکورہ بالا ہے جس کی صفات ظاہرکرنے کے لئے وحی الٰہی عفت الدیارپہلی وحی کے بعد نازل ہوئی۔ تو کیا اب تک آپ پر قیامت نہ آئی؟ اگر کہو کہ قیامت کو تو لوگ مر جائیں گے اور میں اب تک زندہ موجود ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت آپ ذلّت کی موت سے مرچکے ہیں اور یہ جسمانی زندگی روحانی موت کے بعد کچھ چیز نہیں۔ کیا وہ شخص بھی زندہ کہلا سکتا ہے جس نے بڑے زور و شور سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پیشگوئی میں ہرگز زلزلہ کا ذکر نہیں اور بڑے گھمنڈ سے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ قیامت تک تم ایسی پیشگوئی پیش نہیں کرسکتے جس میں زلزلہ کاذکر ہو اور پھر اس کو دکھلایا گیا کہ وہ پیشگوئی موجود ہے جس میں صریح الفاظ میں زلزلہ کا ذکر ہے جو عفت الدیارکے الہام سے بھی پانچ۵ ماہ پہلے الحکم میں شائع ہوچکی ہے اور الہام عفت الدیار محلھا و مقامھا اُسی زلزلہ مذکورہ کی عظمت بیان کرتا ہے کہ وہ ایسا ہوگا اس لئے اس میں دوبارہ زلزلہ کا لفظ لانے کی ضرورت نہ تھی۔
اب بتلاؤکہ ایسی زندگی بھی کیا خاک زندگی ہے کہ ایک بات کا قیامت تک نہ ہونے کا دعویٰ کیا اور وہ بغل میں سے ہی نکل آئی
بمردی کہ تا زیستن مرد را
بہ از زندگانی بترکِ حیا
جہنم کزو داد فرقان خبر
بسوزد درو کاذبِ بدگہر
جو شخص اندھا اور مردہ نہ ہو سمجھ سکتا ہے کہ جس قدر اس پیشگوئی کے لئے صفائی اور قوتِ بیان چاہیئے وہ سب اوّل درجہ پر اس پیشگوئی میں موجود ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اور اس سے انکار ایک ایسی ہٹ دھرمی ہے جس سے صریح سمجھا جاتاہے کہ ایسے شخص کو خدا پر ایمان