کے لئے بطور ارہاص کے ہے۔ اور دوسری عمارتیں بھی گر جائیں گی۔ چنانچہ ایساہی وقوع میں آیا پس جب کہ ظاہر الفاظ کے رو سے پیشگوئی ظہور میں آگئی تو اب اس سے انکار کرنا جھک مارنا ہے ظاہر الفاظ حق رکھتے ہیں کہ معنی کرنے میں اُن کی رعایت ہو اور صَرف عن الظاہر اس وقت سراسر حماقت ہے جب کہ ظاہری صورت میں پیشگوئی کے الفاظ پورے ہو جائیں۔ اگر یہ فقرہ انسان کا افترا ہوتا یعنی یہ فقرہ کہ عفت الدیار محلھا و مقامھا اور اس سے مرادطاعون ہوتی تو ایسا مفتری کبھی یہ فقرہ استعمال نہ کر سکتا کیونکہ اس کو عقل منع کرتی کہ طاعون کی نسبت وہ لفظ استعمال کرے جو طاعون پر صادق نہیں آسکتے کیونکہ طاعون سے عمارتیں نہیں گرتیں اور اگر اجتہاد کے طور پر قبل از وقت صحیح معنے نہ کئے گئے تو اس کانام اجتہادی غلطی ہے اور بعد از وقت جب حقیقت کھل گئی تب صحیح معنوں کو نہ ماننا اس کانام شرارت اور بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہے۔
قولہ۔ ہم تو آپ سے وہ الہام پوچھتے ہیں جس میں آپ نے یہ خبر دی ہو کہ زلزلہ آئے گا لیکن ایسا الہام آپ قیامت تک پیش نہیں کرسکتے۔
اقول۔ میں کہتا ہوں کہ جس قیامت کو آپ دُور سمجھتے تھے وہ قیامت تو آپ پر آگئی۔دیکھو اخبار الحکم صفحہ ۱۵ کالم نمبر ۲ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء جس میں تصریح کردی گئی ہے کہ زلزلہ کا دھکّاآئے گا اور پھر پا۵نچ ماہ بعد ۳۱ مئی ۱۹۰۴ء میں اس دھکا کی عظمت اور قوت اس وحی الٰہی میں بیان فرمائی گئی ہے یعنی یہ کہ عفت الدیار محلھا و مقامھا جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایسا دھکّا ہوگا جس سے اس ملک پنجاب کی ایک حصہ کی بستیاں تباہ ہو جائیں گی۔ اور عمارتوں کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ خواہ وہ عارضی سکونتیں تھیں جیسا کہ دھرم سالہ اورکانگڑہ میں ہندوؤں کے پوجا کے مندر تھے اورخواہ مستقل سکونتیں تھیں جیسا کہ دھرم سالہ اور کانگڑہ وغیرہ کی مستقل سکونتوں کی جگہ تھیں۔ اب آپ فرمایئے کہ وہ قیامت جس کو آپ بہت دُور سمجھتے تھے اورکہتے تھے کہ ایسا الہام تم قیامت تک پیش