زمانہ ماضی سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی بناء پر یہ امر ہے کہ عام لوگوں کو بھی جو صدہا سچی خوابیں آتی ہیں تو ان خوابوں میں بھی آئندہ ہونے والی بات کو ماضی کے طور پر بتلایا جاتا ہے ۔ مثلاً کسی کے گھر میں جو لڑکا پیدا ہوتا ہے تو دکھلایا جاتا ہے کہ لڑکا پیدا ہوگیا یا لڑکی پیدا ہوگئی یا ایسی چیز اس کو مل گئی جس کی تعبیر لڑکا ہے۔ اور پیشگوئیوں کو ماضی کے لفظ پر لانا اور پھر مضارع کے معنوں پر استعمال کرنا نہ صرف قرآن شریف میں ہے بلکہ پہلی کتابوں میں بھی یہ محاورہ شائع متعارف ہے اور ایک بچہ بھی انکار نہیں کرسکتا۔ اور حدیثوں میں بھی بکثرت یہ محاورہ موجود ہے۔ عن انس رضی اللّٰہ عنہ قال، قال النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلم خربت خیبر۔ انا اذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین۔ خیبر پر فتح پانے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خیبر خراب ہوگیااور ہم جب کسی قوم کے صحن میں اُتریں پس اس قوم کی نا مبارک صبح ہے جو ڈرائی گئی ۔ پس آپ نے اس جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ اور مقصود یہ تھا کہ آئندہ خراب ہوگا۔ غرض یہ ایک پیشگوئی تھی جو ماضی کے صیغہ میں کی گئی تھی اور دراصل مضارع کے معنے رکھتی تھی یعنی استقبال کے ۔ پس اسی طرح یہ بھی ایک پیشگوئی ہے یعنی عفت الدیار محلھا ومقامھا جو ماضی کے صیغہ میں ہے اور معنی استقبال کے رکھتی ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں الدیارسے مراد ایک حصہ ملک کا ہے جیسا کہ الف لام اس پر دلالت کرتا ہے اسی وجہ سے لبید رضی اللہ عنہ نے بھی الدیار سے مراد عام طور پر دیار مراد نہیں لی بلکہ دیارِ احباب مرادلی ہے اور اس جگہ یعنی خدا کی کلام میں جو عفت الدیار محلھا و مقامھا ہے محل سے مراد ہندوؤں کی قدیم زیارت گاہیں ہیں یعنی ؔ وہ مندرہیں جو قدیم زمانہ سے دھرم سالہ اور کانگڑہ میں موجود تھے جن کی بنیاد کا زمانہ کم سے کم سولہ سو برس ثابت ہے اور مقام سے مراد وہ عمارتیں ہیں جو دائمی سکونت کے لئے اس نواح میں بنائی گئی تھیں اور خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں یہ خبر دی تھی کہ وہ مندر یعنی بُت خانے بھی گر جائیں گے جن کا گرنا اشاعت توحید