مضارع کا فرق ہے یعنی لبید نے اس جگہ ماضی کے معنے ملحوظ رکھے اور خدا تعالیٰ کے کلام میں اس جگہ استقبال کے معنے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ایک حصہ ملک کی عمارتیں اور بستیاں نابود ہو جائیں گی۔ نہ عارضی سکونتیں باقی رہیں گی نہ مستقل سکونتیں۔ اب بتلاؤ کہ کیا یہ معنے طاعون پر صادق آسکتے ہیں؟ اب ہٹ دھرمی کرنا کیا فائدہ۔ ناحق کی ضد دوہی قسم کے آدمی کیا کرتے ہیں یا سخت احمق یا سخت بے ایمان اور متعصّب ۔ پھر اگر آپ وہی اعتراض پیش کریں جس کا پہلے بھی جواب دیا گیا ہے یعنی یہ کہ یہ ماضی کا صیغہ ہے اور لبید رضی اللہ عنہ نے ماضی کے معنوں پر استعمال کیا ہے تو اس کا جواب پہلے بھی گذر چکا ہے کہ اب یہ کلام لبید کا نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے ۔ خدا تعالیٰ نے جابجا قرآن شریف میں عظیم الشان پیشگوئیوں کو ماضی کے لفظ سے بیان کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے333 ۱* اب ذرہ کچھ انصاف کو کام میں لاکر جواب دو کہ اس پیشگوئی کے الفاظ ماضی کے صیغہ میں ہیں یا مضارع کے صیغہ میں ۔عقل مند کے لئے تو یہ ایک سخت ندامت کاموقعہ ہے بلکہ ایسی غلطی مرنے کی جگہ ہوجاتی ہے جب کہ ایک شخص باوجود دعوے علم ایکؔ بدیہی امر کا انکار کرے۔ مگرمیں سمجھ نہیں سکتا کہ ان جوابات کے پرکھنے کے بعد آپ کی کیاحالت ہوگی۔ انسان کو ایسا طریق اختیار کرنے سے کیا فائدہ جس سے ایک طرف حق کو ترک کرکے خدا تعالیٰ کو ناراض کرے اور دوسری طرف ناحق پر ضد کرکے شرمندگی اور رُسوائی اُٹھاوے اور خدا تعالیٰ کی کلام میں جو اکثر پیشگوئیوں کو ماضی کے صیغہ میں بیان کیا گیا ہے اس کی اصل فلاسفی یہ ہے کہ ہر ایک واقعہ جو زمین پر ہونے والا ہے وہ پہلے ہی آسمان پر ہوچکتا ہے۔ پس آسمان کے لحاظ سے گویا وہ واقعہ
بائبل میں بھی بہت جگہ آئندہ واقعات کو ماضی کے صیغہ میں بیان کیا گیا ہے جیسا کہ یہ فقرہ بابل گِر پڑا،گِر پڑا۔ دیکھو یسعیاہ باب ۲۱ آیت۵*۔ اور جیسا کہ یہ فقرہ۔ ہائے نبو پر کہ وہ ویران ہو گیا۔ قریتیم رُسوا ہوا۔ دیکھو یرمیاہ باب ۴۸۔ آیت ۱۔ منہ