آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے مکّہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے جس میں کھجوروں کے درخت ہیں۔ پس میرا خیال اِس طرف گیا کہ وہ زمین یمامہ یا زمین ہجر ہے مگر وہ مدنیہ نکلا یعنی یثرب۔ اب دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کی رؤیا وحی ہے اور جن کا اجتہاد سب اجتہادوں سے اسلم اور اقویٰ اور اصح ہے اپنی رؤیا کی یہ تعبیر کی تھی کہ یمامہ یا ہجر کی طرف ہجرت ہوگی ۔ مگر وہ تعبیر صحیح نہ نکلی۔ پس کیا یہ پیشگوئی آپ کے نزدیک پیشگوئی نہیں ہے؟ اور کیا آپ طیار ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک حملہ کردیں ۔ پس جب کہ اجتہادی غلطی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہیں تو پھر آ پ کا یہ کیا ایمان ہے کہ تعصب کے جوش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی بھی کچھ پروا نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ سے کچھ شرم نہیں ۔ اور پھر سچے منصف بن کر اور خدا ترسی کا دھیان رکھ کر عفت الدیار کے الفاظ کی طرف دیکھنا چاہیئے کہ اس کے الفاظ طاعون پر صادق آتے ہیں یا زلزلہ پر۔ کیا یہ ایمانداری ہے کہ جب کہ واقعہ موعودہ کے ظہور نے عفت الدیار کے معنوں کو خود کھول دیا پھر بھی اس سے مراد طاعون ہی سمجھیں۔ اس پیشگوئی کے الفاظ صاف طور پر پکار رہے ہیں کہ ؔ وہ ایک حادثہ ہے جس سے عمارتیں گر جائیں گی اور ایک حصہ ملک کی بستیوں کا نابود ہو جائے گا۔ اگر آپ عربی نہیں جانتے تو کسی عربی دان سے پوچھ لیں کہ عفت الدیار محلھا و مقامھا کے کیامعنے ہیں اور اگر کسی پر اعتبار نہ ہو تو اس مصرع کے معنے جو شارح نے لکھے ہیں وہ دیکھ لیں اوروہ معنے یہ ہیں اِنْدَرَسَتْ دِیَارُ الْاَحْبَابِ وَانْمَحٰی مَاکَانَ مِنْھَا لِلْحَوْلِ وَمَا کَانَ لِلْاِئقَامَۃِ (دیکھومعلّقہ چہارم شرح مصرع اوّل) یعنی دوستوں کی بستیاں اور اُن کے گھر نابود ہوگئے اور وہ عمارتیں نابود ہوگئیں جو چند روزہ اقامت کے لئے تھیں جیسے سرائے یا قوموں کی زیارت گاہیں۔ اور وہ عمارتیں بھی نابود ہوگئیں جو مستقل سکونت کی تھیں۔ اب بتلاؤ یہ معنے طاعون پر کیونکر صادق آسکتے ہیں اور طاعون کو عمارتوں کے گرنے سے کیا تعلق ہے۔ ان معنوں میں اورخدا تعالیٰ کی وحی کے معنوں میں صرف ماضی اور