اور جو اس کے سیاق اور سباق سے مترشح ہو رہے ہیں اور جو معنے واقعہ کے ظہور سے کھل گئے ہیں اور انسانی کانشنس نے قبول کرلیا ہے کہ جوکچھ ظاہر ہوا ہے وہ وہی ہے جو عفت الدیار کے الہام سے نکلتا ہے پھر اس کے انکار پر اصرار کرے اگر فرض بھی کرلیں کہ خود ملہم نے اپنے اجتہاد کی غلطی سے اس حادثہ کو جو عفت الدیار کے الہام سے ظاہر ہوتاہے طاعون ہی سمجھ لیا تھا تو اس کی یہ غلطی کہ قبل از وقوع ہے مخالف کے لئے کوئی حجت نہیں۔ دنیا میں کوئی ایسا نبی یا رسول نہیں گذرا جس نے اپنی کسی پیشگوئی میں اجتہا دی غلطی نہ کی ہو تو کیا وہ پیشگوئی آپ کے نزدیک خدا تعالیٰ کا ایک نشان نہ ہو گا اگر یہی کفر دل میں ہے تو دبی زبان سے کیوں کہتے ہو پورے طور پر اسلام پر کیوں حملہ نہیں کرتے کیا کسی ایک نبی کا نام بھی لے سکتے ہو جس نے کبھی اجتہادی طور پر اپنی کسی پیشگوئی کے معنے کرنے میں غلطی نہیں کھائی ۔ تو پھر بتلاؤ کہ اگر فرض بھی کرلیں کہ لفظ متعلق کے معنے بعینہٖ طاعون ہے تو کیا یہ حملہ تمام انبیاء پر نہیں۔ عفت الدیارکے الہامی فقرہ پر نظر ڈال کر صاف ظاہر ہے کہ اس فقرہ سے مرا ؔ د یہ ہے کہ وہ ایسا حادثہ ہوگا کہ ایک حصہ ملک کی عمارتیں اس سے گر جائیں گی۔ اور نابود ہو جائیں گی۔ اور ظاہرہے کہ طاعون کا عمارتوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ پس اگر ایڈیٹر اخبار الحکم نے ایسا لکھ بھی دیا کہ یہ فقرہ طاعون سے متعلق ہے اور تعلّق سے وہ معنے سمجھے جائیں جو معترض نے کئے ہیں تو غایت مافی الباب یہ کہا جائے گا کہ ایڈیٹر الحکم نے ایسا لکھنے میں غلطی کی۔ اور ایسی غلطی خود انبیاء علیھم السلام سے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں بعض دفعہ ہوتی رہی ہے۔ جیسا کہ ذھب وھلی کی حدیث بخاری میں موجود ہے اور اس کے لفظ یہ ہیں۔ قال ابو موسٰی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم رئیت فی المنام انّی اھاجرمن مکۃ الٰی ارض بھا نخل فذھب وھلی الٰی انھا الیمامۃ اوھجر فاذا ھی المد ینۃ یثرب (بخاری جلد ثانی باب ہجرۃالنّبی صلّی اللّٰہ علیہ و سلم واصحابہ الی المدینہ*) یعنی ابو موسیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ