یا آپ جاہلوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اور کیا ہم نے جھوٹ بولا ہے یا آپ جھوٹ بولتے ہیں؟ لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین۔ اخبار الحکم موجود ہے۔ اس کے دونوں پرچوں کو دیکھ لو اور یہ اخبار زلزلہ موعودہ سے ایک سال پہلے ملک میں شائع ہوچکی ہے۔ گورنمنٹ میں بھی پہنچ چکی ہے اب بتلاؤ کس تعصب نے آپ کو اس جھوٹ پر آمادہ کیا جو آپ دعویٰ کر بیٹھے جو زلزلہ کا ذکر پیشگوئی میں موجود ہی نہیں ہے۔ قولہ۔ یہ الہام ۳۱؍ مئی ۱۹۰۲ء ؁ کے الحکم کے۱؂ صفحہ کالم ۴ پر موجود ہے اور اس کے سامنے صاف طور پر جلی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ متعلق طاعون۔ اقول۔ اس میں کیا شک ہے کہ یہ زلزلہ بھی طاعون کا ایک ضمیمہ ہے اور اس سے متعلق ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار فرما دیا ہے کہ زلزلہ اور طاعون دونوں تیری تائید کے لئے ہیںؔ پس زلزلہ درحقیقت طاعون سے ایک تعلق رکھتا ہے کیونکہ طاعون بھی میرے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہے اور ایسا ہی زلزلہ بھی۔ پس اسی وجہ سے دونوں کو باہم تعلق ہے اور دونوں ایک ہی امر کے مؤیّد ہیں۔ اور اگر یہ وہم دل میں پیدا ہو کہ اس فقرہ سے مراد درحقیقت طاعون ہی ہے تو یہ وہم درحقیقت فاسد ہے کیونکہ جو چیز کسی چیز سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ درحقیقت اس کاعین نہیں ہوسکتی ماسوا اس کے قرینہ قویہ اس جگہ موجود ہے کہ اس فقرہ سے مراد درحقیقت طاعون نہیں ہے یعنی جب کہ پہلے اس سے یہ الہام موجودہے کہ زلزلہ کا دھکّاتو پھر ذرہ انصاف اور عقل کو دخل دے کر خود سوچ لینا چاہیئے کہ عمارتوں کا گرنا اور بستیوں کا معدوم ہونا کیا یہ طاعون کی صفات میں سے ہوسکتا ہے بلکہ یہ تو زلزلہ کی صفات میں سے ہے اس قدر مُنہ زوری ایک پرہیز گار انسان میں نہیں ہوسکتی کہ جو معنے ایک عبارت کے الفاظ سے پیدا ہوسکتے ہیں کوپڑھیں جو ۱۹۰۱ ء میں شائع ہوا تھا اور پھر مواہب الرحمن کے صفحہ ۸۶ کو پڑھیں جو ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی تھی اور پھر اپنی ایمانی حالت پر روویں۔ منہ