لبید ایک واقعہ گذشتہ کے حالات پیش کرتا ہے جن کا بیان کرنا انسانی قدرت کے اندر داخل ہے لیکن اب خدا تعالیٰ لبید کے کلام سے اپنی وحی کا توارد کرکے ایک واقعہ عظیمہ آئندہ کی خبر دیتا ہے جو انسانی طاقتوں سے باہرہے پس وہی کلام جب لبید کی طرف منسوب کیا جائے تو معجزہ نہیں ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے تو بلاشبہ معجزؔ ہ ہے ۔ آج سے ایک سال پہلے اس بات کو کون جانتا تھا کہ ایک حصہ اس ملک کا زلزلہ شدیدہ کے سبب سے تباہ اورویران ہو جائے گا یہ کس کو خبر تھی کہ اس قدر شہر اور دیہات یک دفعہ زمین میں دھنس کر تمام عمارتیں نابود ہو جائیں گی اور اُس زمین کی ایسی صورت ہو جائے گی کہ گویا اس میں کبھی کوئی عمارت نہ تھی پس اسی بات کا نام تو معجزہ ہے کہ کوئی ایسی بات ظہور میں آوے جو پہلے اس سے کسی کے خیال و گمان میں نہ تھی اور امکانی طور پر بھی اس کی طرف کسی کاخیال نہ تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں نے اس زلزلہ شدیدہ کو بڑے تعجب کی نظر سے دیکھا ہے اور اس کو ایک غیر معمولی اور انہونی بات اور نمونہ قیامت قرار دیا ہے اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ محققان یورپ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ اس ملک کی تاریخ پر سولہ سو بر۱۶۰۰س تک نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ پہلے اس سے ایساخوفناک اور تباہی ڈالنے والا زلزلہ اس ملک میں کبھی نہیں آیا۔ پس جس وحی نے ایک زمانہ دراز پہلے ایسے غیر معمولی واقعہ کی خبر دی کیاوہ خبر معجزہ نہیں ہے؟ کیا وہ انسانی طاقتوں کے اندر داخل ہے*۔ جس ملک کے لوگوں نے بلکہ ان کے باپ دادوں نے معترض صاحب نے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں پیسہ اخبار میں یہ اعتراض شائع کیا ہے کہ پیشگوئی عفت الدیار محلھا و مقامھا میں زلزلہ کا کہاں ذکر ہے حالانکہ زلزلہ کا ذکر اس پیشگوئی سے پا۵نچ ماہ پہلے اُسی اخبار میں شائع ہو چکا ہے۔ اور یہ پیشگوئی اسی زلزلہ کی صفات کا بیان ہے۔ ہمارے مخالفین کی یہ دیانت اور امانت اور یہ عقل اور یہ فہم ہے۔ کیا ان لوگوں میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں کہ خلوت میں اس شخص کو ملامت کرے اور اس کو گو شمالی کرے کہ ایسا دھوکا پبلک کو کیوں دیا حالانکہ اس کو خوب معلوم تھا کہ پرچہ الحکم ۲۴؍دسمبر۱۹۰۳ ؁ء میں زلزلہ کی پیشگوئی صاف لفظوں میں موجود ہے جس کے ہیبت ناک نتائج الہام عفت الدیار میں ذکر کئے گئے ہیں اور یہ دونوں پیشگوئیاں ان کے ظہور سے ایک سال پہلے شائع کی گئی ہیں بلکہ زلزلہ کی پیشگوئی صریح اور صاف لفظوں میں مواہب الرحمن صفحہ ۸۶ میں بھی موجود ہے جس کو شائع کئے اڑھائی برس ہو چکے ہیں۔ منہ