بھی قریباً دو ہزا*ر بر س تک ایک واقعہ کو نہ دیکھا ہو نہ سنا ہو اور نہ انؔ کے خیال و گمان میں ہو کہ ایسا واقعہ ہونے والا ہے یاامکان میں ہے پھر اگر کوئی پیشگوئی ایسے واقعہ کی خبر دے اور وہ واقعہ بعینہٖ ظہور میں آجائے تو وہ خبر نہ صرف معجزہ کہلائے گی بلکہ اوّل درجہ کا معجزہ ہوگا۔ پھر ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ معترض صاحب نے ایک عظیم الشان پیشگوئی کی عظمت دُور کرنے کے لئے اور اس کو تمام لوگوں کی نظر میں خفیف ٹھہرانے کیلئے انجیل کی اُس بے معنی پیشگوئی سے اس کو مشابہت دی ہے جس میں محض معمولی الفاظ میں لکھا ہے کہ زلزلے آویں گے۔ لیکن جو شخص ذرا آنکھ کھول کر میرے اشتہارات کی عبارت کو پڑھے گا اس کو افسوس سے کہنا پڑے گا کہ ناحق معترض نے روز روشن پر پردہ ڈالنا چاہا ہے اور ایک بھاری خیانت سے کام لیا ہے۔ اُس نے میرے اشتہارات کو پڑھ لیا ہے اور اس کو خوب علم تھا کہ میری پیشگوئی کے الفاظ جو زلزلہ کی نسبت بیان کئے گئے ہیں وہ انجیل کے الفاظ کی طرح سُست اور معمولی نہیں ہیں تاہم اس نے دانستہ ہٹ دھرمی کو اختیار کرلیا۔ کس کو معلوم نہیں کہ عربی الہام یعنی عفت الدیارمحلھاومقامھاایک ایسی چونکا دینے والی خبر پیشگوئی کے طور پر بیان کرتاہے جس سے بدنوں پر لرزہ پڑ جائے کیا یہ ایک معمولی بات ہے کہ شہر اور دیہات زمین میں دھنس جائیں گے اور اُردو میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ زلزلہ کا دھکا ہوگا۔ دیکھو اخبار الحکم صفحہ ۱۵ کالم ۲ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء اور پھر ۱۹۰۱ء میں جو رسالہ آمین شائع کیا گیا تھا اس میں لکھا گیا ہے کہ وہ ایسا حادثہ ہوگا کہ اس سے قیامت یاد آجائے گی اور ضالحکم ۲۴ ؍مارچ ۱۹۰۴ ؁ء اخبار سول ملٹری گزٹ میں یہ امر تحقیقات شدہ شائع کیا گیا ہے کہ ہندوؤں کا مندر جو کانگڑہ میں زلزلہ سے نابود ہو گیا ہے دو ہزار برس سے یہ مندر چلا آتا تھا۔ پس اگر ایسا زلزلہ پہلے اس سے آیا ہوتا تو یہ عمارتیں پہلے سے ہی نابود ہو جاتیں۔منہ ایسا ہی میری کتاب ’’مواہب الرحمن‘‘ مطبوعہ ۱۹۰۲ ء میں ایک سخت زلزلہ کی خبر ہے جس سے عمارتیں گریں گی اور اس میں نہ صرف عمارتوں کے گرنے کا ذکر ہے بلکہ صاف لفظوں میں زلزلہ کا ذکر ہے۔ دیکھو مواہب الرحمن صفحہ ۸۶۔ منہ