آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا بلکہ زمانہ ترقیات اسلام کا خوب دیکھا اور ۴۱ ہجری میں ایک سو ستاو۱۵۷ن برس کی عمر پاکر فوت ہوا۔ اِسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کلام سے بھی کئی مرتبہ قرآن شریف کا توارد ہوا جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ قال قال عمروَاؔ فَقْت رَبِّیْ فِیْ اَرْبَعٍ یعنی چارباتیں جو میرے منہ سے نکلیں وہی خدا تعالیٰ نے فرمائیں اور اگر ہم اس امت مرحومہ کے اولیاء کرام کا ذکر کریں کہ کس قدر دوسروں کے کلام بطور الہام اُن کے دلوں پر القا ہوئے اور بعض کو مثنوی رومی کے اشعار بطور الہام منجانب اللہ دل پر ڈالے گئے تو یہ بیان ایک علیحدہ رسالہ کو چاہتا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ جس شخص کو ایک ذرا واقفیت بھی اس کوچہ سے ہوگی وہ کبھی اس بات کو مُنہ پر نہیں لائے گا کہ خدا کے کلام کو انسان کے کلام سے توارد نہیں ہوسکتا بلکہ ہر ایک شخص جو کسی قدر علم شریعت سے حصہ رکھتا ہے وہ ایسے کلمہ کو موجبِ کفر سمجھے گا کیونکہ اس عقیدہ سے قرآن شریف سے انکار کرنا لازم آتا ہے۔ اس جگہ ایک اشکال بھی ہے اور ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس اشکال کو بھی حل کردیں۔ وہ یہ ہے کہ اگر یہ جائزہے کہ کسی انسان کے کلام سے خدا کے کلام کا توارد ہو تو ایسا ہونا قرآن شریف کے معجزہ ہونے میں قدح پیدا کرتا ہے لیکن جیسا کہ صاحب تفسیر کبیر اور دوسرے مفسروں نے لکھا ہے کوئی جائے اشکال نہیں کیونکہ اس قدر قلیل کلام پر اعجاز کی بنا نہیں ورنہ قرآن شریف کے کلمات بھی وہی ہیں جو اور عربوں کے منہ سے نکلتے تھے اعجازی صورت کے پیداہونے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کا کلام کم سے کم اس سورۃ کے برابر ہو جو سب سے چھوٹی سورۃ قرآن شریف میں ہے یا کم سے کم دس آیتیں ہوں کیونکہ اسی قدر کو قرآن شریف نے معجزہ ٹھہرایا ہے۔ مگر مَیں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص کا کلام خدا کے کلام میں بطور وحی کے داخل ہوجائے تو وہ بہرحال اعجاز کا رنگ پکڑ سکتا ہے۔ مثلاً یہی وحی الٰہی یعنی عَفَتِ الدّیار محلّھا و مقامھا جب لبید ر ضی اللہ عنہ کے مُنہ سے شعر کے طور پر نکلی تو یہ معجزہ نہ تھی۔ لیکن جب وحی کے طور پر ظاہر ہوئی تو اب معجزہ ہوگئی ۔کیونکہ