پہلے حصہ میں جو ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء ؁ میں اُسی اخبار الحکم میں درج ہوئی ہے صاف اور صریح لفظوں میں زلزلہ کا ذکر بھی شائع ہوچکا ہے تو ایسے معترض کی عقل پر ہنسیں یاروویں جو کہتا ہے جو زلزلہ کی کوئی پیشگوئی نہیں کی۔ اب یاد رہے کہ وحی الٰہی یعنی عفت الدیار محلھا ومقامھایہ وہ کلام ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے خدا تعالیٰ نے لبید بن ربیعۃ العامریکے دل میں ڈالا تھا جو اُس کے اس قصیدہ کااوّل مصرع ہے جو سبعہ مُعلّقہ کا چوتھا قصیدہ ہے اور لبید نے زمانہ اسلام کا پایا تھا اور مشرف باسلام ہوگیا تھا اور صحابہ رضی اللّٰہ عنھم میں داخل تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے کلام کو یہ عزّت دی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ ایسی ایسی تباہیاں ہوں گی جن سے ایک ملک تباہ ہوگا وہ اُسی کے مصرع کے الفاظ میں بطور وحی فرمائی گئی جو اس کے منہ سے نکلی تھی۔ پس یہ تعجب سخت نادانی ہے کہ ایک کلام جو مسلمان کے منہ سے نکلا ہے وہ کیوں وحی الٰہی میں داخل ہوا۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں وہ کلام جو عبدا للہ بن ابی سرح کے منہ سے نکلا تھا یعنی3۱؂ وہی قرآن شریف میں نازل ہوا جس کی وجہ سے عبد اللہ بن ابی سرح مرتد ہوکر مکہ کی طرف بھاگ گیا*۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کا ایک مرتد کے کلام سے توارد ہوا تو اس سے کیوں تعجب کرناچاہیے کہ لبید جیسے صحابی بزرگوار کے کلام سے اس کے کلام کا توارد ہوجائے ۔ خدا تعالیٰ جیسے ہرایک چیز کا وارث ہے ہر ایک پاک کلام کا بھی وارث ہے اور ہر ایک پاک کلام اُسی کی توفیق سے مُنہ سے نکلتا ہے۔پس اگر ایسا کلام بطور وحی نازل ہو جائے تو اس بارے میں وہی شخص شک کرے گا جس کو اسلام میں شک ہو۔ اور لبید کے فضائل میں سے ایک یہ بھی تھا جو اس نے نہ صرف