جس کے یہ لفظ ہیں کہ زلزلہ کا دھکا وہ ایسا اعتراض کرنے سے حیا کرے گا کہ پیشگوئی میں زلزلہ کا ذکر نہیں۔ ہاں ہم یہ اب بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں استعارات بھی ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱؂لہٰذا ممکن تھا کہ زلزلہ سے مراد اور کوئی عظیم الشان آفت ہوتی جو پورے طورپر زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی۔ مگر ظاہر عبارت بہ نسبت تاویل کے زیادہ حق رکھتی ہے پس دراصل اس پیشگوئی کا حلقہ وسیع تھا لیکن خدا تعالیٰ نے دشمنوں کامنہ کالا کرنے کے لئے ظاہر الفاظ کی رو سے بھی اس کو پورا کردیا۔ اور ممکن ہے کہ بعد اس کے بعض حصے اس پیشگوئی کے کسی اور رنگ میں بھی ظاہر ہوں لیکن بہرحال وہ امر خارقِ عادت ہوگا جس کی نسبت یہ پیشگوئی ہے چنانچہ یہی زلزلہ جس نے اس قدر پنجاب میں نقصان پہنچایا اس کی نسبت تحقیقات کی رو سے سول ملٹری گزٹ وغیرہ اخبارات میں شائع ہوچکا ہے اور یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ سولہ سو برس تک اس ملک پنجاب میں ایسا کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ پس یہ پیشگوئی بلا شبہ اوّل درجہ کی خارق عادت امر کی خبر دیتی ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی کچھ ایسے حوادث مختلف اسبابِ طبعیہ سے ظاہر ہوں جو ایسی تباہیوں کے موجب ہو جائیں جو خارقِ عادت ہوں پس اگر اس پیشگوئی کے کسی حصہ میں زلزلہ کا ذکر بھی نہ ہوتا تب بھی یہ عظیم الشان نشان تھا کیونکہ مقصود تو اس پیشگوئی میں ایک خارقِ عادت تباہی مکانوں اور جگہوں کی ہے جو بے مثل ہے زلزلہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے پس جب کہ یہ شہادت مل چکی کہ سولہ سو برس تک اس تباہی کی ملک پنجاب میں نظیر نہیں پائی جاتی تو یہ پیشگوئی ایک معمولی امر نہ رہا جو صرف انسانی اٹکل سے ہوسکتا ہے پھر جبکہ اسؔ پیشگوئی کے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا یعنی جس کو خدا کا دیدار اِس جگہ نہیں اُس جگہ بھی نہیں۔ اس آیت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو بیچارے جسمانی طور پر اس جہان میں اندھے ہیں وہ دوسرے جہان میں بھی اندھے ہی ہوں گے۔ پس یہ استعارہ ہے کہ جاہل کا نام اندھا رکھا گیا۔ منہ