فرما دیں کہ کیا یہ قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے اور اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنے اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے۔ جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کاحملہ صرف میرے پر حملہ نہیں بلکہ یہ تو قرآن شریف پر بھی حملہ ہوگیا گویا وہ صرف ونحو جو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں۔ اسی وجہ سے خدا نے جابجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔ پھر اس کے ساتھ آپ کا ایک اور اعتراض بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پیشگوئی یعنی عفت الدیار محلھا ومقامھا میں زلزلہ کا لفظ کہاں ہے۔ افسوس اس معترض کو یہ معلوم نہیں کہ مقصود بالذات تو پیشگوئی کا اسی قدر مفہوم ہے جو الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے غرض تو صرف اتنی ہے کہ ایک حصہ ملک پر بڑی تباہی آئے گی ۔ اس جگہ دانا خود سمجھ سکتا ہے کہ مکانات کا تباہ ہونا بذریعہ زلزلہ ہی ہوا کرتا ہے ۔ ہاں ممکن ہے کہ یہ عظیم الشان ملک کی تباہی اور شہروں اور مکانات کا نابود ہوجانا کسی اور ذریعہ سے ظہور میں آوے مگر تب بھی بہرحال یہ پیشگوئی سچی ثابت ہوگی۔ اورچونکہ سنّت اللہ کے موافق اس تباہی کو زلزلہ پر دلالتِ التزامی ہے اس لئے اس کاذکرکرنا ضروری نہ تھا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ بعض کم فہم جن کی فطرت نادانی اور تعصب کی معجون ہے ایسااعتراض بھی کریں گے اس لئے اُس نے زلزلہ کا لفظ بھی بتصریح لکھ دیا۔ دیکھو پرچہ الحکم مورخہ۲۴؍دسمبر۱۹۰۳ء اور اگرچہ یہ پیشگوئی زلزلہ کی پیشگوئی سے الگ کرکے جو اس سے پہلے شائع ہوچکی ہے صرف اس قدر بتاتی ہے کہ اس ملک کے بعض حصے تباہ ہو جائیں گے اور سخت تباہی آئے گی اور عمارات نابود ہو جائیں گی اور بستیاں کالعدم ہو جائیں گی۔ اور یہ نہیں بتلاؔ تی کہ کس خاص ذریعہ سے یہ تباہیاں وقوع میںآئیں گی۔ لیکن جو شخص سوچے گا کہ شہر اور بستیاں کس ذریعہ سے زمین میں دھنسا کرتی ہیں اوریک دفعہ عمارتیں کیونکر گر جاتی ہیں اور اس پیشگوئی کے ساتھ اس پیشگوئی کو بھی پڑھے گا جو اسی پرچہ میں پانچ۵ ماہ پہلے شائع ہوچکی ہے۔