پھر معترض کا پیشگوئی عفت الدیار پر ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ عفت کا لفظ جو ماضی کا صیغہ ہے اس کا ترجمہ مضارع کے معنوں میں کیا گیا ہے حالانکہ اس کا ترجمہ ماضی کے معنوں میں کرنا چاہئے تھا۔ اس اعتراض کے ساتھ معترض نے بہت شوخی دکھلائی ہے۔ گویا مخالفانہ حملہ میں اس کو بھاری کامیابی ہوئی ہے۔ اب ہم اس کی کس کس دھوکا دہی کو ظاہر کریں جس شخص نے کافیہ یا ہدایت النحو بھی پڑھی ہوگی۔ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو* مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تااس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو۔ اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔33 ۱؂ اور جیساکہ فرماتا ہے 333۲؂۔ 3اورجیساکہ فرماتاہے33333اورجیساکہ فرماتاہے۵؂ اور جیسا کہ فرماتا ہے۶؂ اور جیسا کہ فرماتا ہے 3۷؂ اور جیسا کہ فرماتا ہے۔۸؂اب معترض صاحب مثلاً جس شخص کو بہت سی زہر قاتل دی گئی ہو وہ کہتا ہے کہ میں تو مر گیا۔ اور ظاہر ہے کہ مر گیا ماضی کا صیغہ ہے مضارع کا صیغہ نہیں ہے۔ اس سے مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ میں مر جاؤں گا۔ اور مثلاً ایک وکیل جس کو ایک قوی اور کھلی کھلی نظیر فیصلہ چیف کورٹ کی اپنے مؤکل کے حق میں مل گئی ہے وہ خوش ہو کر کہتا ہے کہ بس اب ہم نے فتح پا لی حالانکہ مقدمہ ابھی زیر تجویز ہے کوئی فیصلہ نہیں لکھا گیا۔ پس مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ ہم یقیناًفتح پا لیں گے اسی لئے وہ مضارع کی جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔ منہ