یہ بھی خدا تعالیٰ پر گستاخانہ حملہ ہے وہ ہر ایک شخص کے قول کاوارث ہے لبید ہویاکوئی اور ہو۔ اُسی کی توفیق سے شعر بھی بنتا ہے۔ پس اگر اس نے ایک شخص کے کلام کو لے کر بطور وحی القا کردیا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اور اگر یہ اعتراض ہوسکتا ہے تو پھر اس بات کا کیاجواب ہے کہ قرآن شریف میں جو یہ آیت ہے فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین۔یہ بھی دراصل ایک انسان کا کلام تھا۔ یعنی عبد اللہ بن ابی سرح کا جو ابتداء میں قرآن شریف کی بعض آیات کا کاتب بھی تھا پھر مرتد ہوگیا وہی کلام اس کا بغیر کمی بیشی کے فرقان مجید میں نازل ہوگیا اور یہ وحی الٰہی کہ عفت الدیار محلھا و مقامھا اس کے حروف قرآن شریف کی آیت موصوفہ کے حروف سے بھی زیادہ نہیں ہیں ۔ یعنی3 ۱سے بلکہ اس کے اکیس۲۱ حرف ہیں مگر آیت قرآنی کے بائیس۲۲ حرف ۔ پھر معترض کا اس وحی الٰہی پر یہ کہاوت سنانا کہ ’’ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔ بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘*اُس کو ذرا سوچنا چاہیےے کہ اُس نے درحقیقت قرآن شریف پر حملہؔ کرکے اپنی عاقبت درست کرلی ہے۔ اور قرآن شریف میں صرف یہی وحی نہیں جو اس بات کانمونہ ہو جو وہ پہلے انسانی کلام تھا اور پھر اُس سے خدا تعالیٰ کی وحی کا توارد ہوا بلکہ بہت سے ایسے نمونے پیش ہوسکتے ہیں جہاں انسانی کلام سے خدا تعالیٰ کے کلام کا توارد ہوا جیسا کہ قرآن شریف کوبہت جگہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کلام سے توارد ہوا ہے جس سے علماء بے خبر نہیں ہیں۔ اور جن کی ایک بڑی فہرست پیش ہوسکتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معترض دراصل قرآن شریف سے منکر ہے ورنہ ایسا گستاخی او ر بے ادبی کا کلمہ ہرگز اس کے منہ پرنہ آتا۔ کیا کوئی مومن ایسا اعتراض کسی پر کرسکتا ہے؟ کہ وہ اعتراض بعینہٖ قرآن شریف پر آتا ہو۔ نعوذ باللہ ہرگز نہیں۔
اگرچہ گناہ ہزاروں قسم کے ہوتے ہیں مگر نہایت درجہ کا *** وہ شخص ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک کلام پر اعتراض کرے۔ جاہل جلدی سے اور گستاخی سے اور خوش ہو کر خدا تعالیٰ کے کلام پر اعتراض کرتا ہے اور اس قدوس سے لڑتا ہے مگر وہ مر جاتا تو اس سے بہتر تھا۔ منہ