ہیں کہ ایک حصہ ملک کا ایسا تباہ ہو جائے گا کہ اس کی عمارتیں سب نابود ہو جائیں گی نہ سرائیں باقی رہیں گی نہ مستقل سکونت کی جگہ۔ اس جگہ ادنیٰ عربی دان بھی الدیار کے الف لام کو ذہن میں رکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ الدیار سے ایک حصہ اس ملک کا مراد ہے اور عفت کے لفظ سے یہی مطلب ہے کہ اس حصہ ملک کے سب مکانات گر جائیں گے نابود ہو جائیں گے نا پدید ہو جائیں گے۔*
پسؔ کوئی مجھ کو سمجھا وے کہ اس ملک کے لئے ایساواقعہ پہلے اس سے کب پیش آیا تھا ورنہ ایمانداری سے بعید ہے کہ انسان بے حیا ہوکر جھوٹ بولے اور اس خدا کا خوف نہ کرے جس کا ہاتھ ہر ایک وقت سزا دینے پر قادر ہے ۔ اور پھر اشتہار الوصیت میں جو ۲۷؍ فروری ۱۹۰۵ ء میں زلزلہ سے پہلے شائع کیا گیا تھا یہ عبارت درج ہے۔ اِس وقت جو آدھی رات کے بعد چا۴ر بج چکے ہیں بطور کشف میں نے دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طور پر شورِ قیامت برپا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی الہام ہوا کہ موتا موتی لگ رہی ہے اب سوچو کہ کیا ایک آئندہ واقعہ کی ان الفاظ سے پیشگوئی کرنا کہ وہ نمونہ قیامت ہوگا۔ اور شورِ قیامت اس سے برپا ہوگا وہ پیشگوئی اس پیشگوئی سے مساوی ہوسکتی ہے جومعمولی الفاظ میں کہا جائے جو زلزلے آویں گے۔ خاص کر شام جیسے ملک میں جو اکثر زلزلوں اور طاعون کی جگہ ہے اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو خدائے تعالیٰ کی پیشگوئی کے انکار میں اس قدر دلیری کیونکر ہو۔ یہ میرے پر حملہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر حملہ ہے جس کاوہ کلام ہے اور یہ کہنا کہ عَفَتِ الدِّیار محلّھا و مقامھایہ لبید بن ربیعہکے ایک بیت کا پہلا مصرعہ ہے
اگر کسی کو ان معنوں میں شک ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ کسی مخالف عربی دان کو قسم دے کر پوچھ لے کہ کیا اس الہام عَفَتِ الدّیار میں عمارتوں کا گرنا۔ نابود ہو جانا اور ایسے مکانات کا گِرنا جو عارضی آمد و رفت کے لئے مقرر ہوتے ہیں جیسا کہ دھرم سالہ اور کانگڑہ کے پہاڑ کی لاٹاں والی کا مندر یا دائمی بودوباش کے مکانات کا گِرنا ثابت نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے کہ ایسے کھلے طور پر ثابت ہوتا ہے جس سے آگے توضیح کی ضرورت نہیں۔ منہ