کے طور پر ملک میں شائع کئے ایسی ہی معمولی خبر پائی جاتی ہے جس میں کوئی امر خارق عادت نہیں۔ اگر درحقیقت ایسا ہی ہے تو پھر زلزلہ کی نسبت میری پیشگوئی بھی ایک معمولی بات ہوگی۔ زلزلہ کی نسبت میرے اشتہارات کے الفاظ یہ ہیں۔ یکم مئی ۱۹۰۴ ء میں مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی تھی جس کو میں نے اخبار الحکم اور البدرؔ میں شائع کرادیا تھا۔ عفت الدّیار محلّھا ومقامھا۔ یعنی اس ملک کاایک حصہ مٹ جائے گا۔ اس کی وہ عمارتیں جو عارضی سکونت کی جگہ ہیں اور وہ عمارتیں جو مستقل سکونت کی جگہ ہیں دونوں نابود ہوجائیں گی ان کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ اور الدیارپر جو الف لام ہے وہ دلالت کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں اس ملک میں سے وہ خاص خاص جگہ ہیں جن پر یہ تباہی آئے گی اور وہ خاص حصہ ملک کے مکانات ہیں جو زمین سے برابر ہو جائیں گے۔ یہ کس قدر فوق العادت پیشگوئی ہے اور کس شدومد سے اس میں آئندہ واقعہ کاذکر ہے جس کی سولہ ۱۶۰۰سو برس تک بھی اس ملک میں نظیر نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ انگریزی اخباروں کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ بڑے بڑے طبقات الارض کے محقق اس ملک کی نسبت یہ فوق العادت واقعہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ یورپ کے بڑے بڑے محققوں کی شہادت سے شائع ہوچکا ہے کہ سولہ سو برس تک بھی پنجاب میں اس زلزلہ کی نظیر نہیں پائی جاتی اور تمام اخباریں اس مضمون سے بھری پڑی ہیں کہ یہ زلزلہ نمونہ قیامت تھا۔ پس جبکہ اُس وحی الٰہی میں جو میرے پر ہوئی یہ فوق العادت مضمون ہے کہ اس حادثہ سے عمارتیں نابود ہوجائیں گی اور ایک حصہ اِس ملک کا تباہ ہو جائے گا تو پھر نہایت افسوس ہے کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی کو جو ایک ملک کے تباہ ہونے کی خبر دیتی ہے انجیل کی ایک معمولی خبر کے برابر ٹھہرایا جائے جوزلزلے آئیں گے اور وہ بھی اُس ملک میں جو زلزلوں کا گھر ہے کیا کسی پیشگوئی کے اِس سے زیادہ الفاظ ڈرانے والے ہوسکتے ہیں۔ ہر ایک منصف مزاج خود سوچ لے کہ کیا اس ملک پنجاب کے لئے زلزلہ کی پیشگوئی کے الفاظ اس سے زیادہ فوق العادت ہوسکتے ہیں جو وحی ربّانی عفت الدّیار محلّھا و مقامھا میں پائے جاتے ہیں۔ جس کے یہ معنے