حضرت مسیح کی لکھی گئی تو غالباً اس وقت بھی کوئی زلزلہ آرہا ہوگا۔ اب ہم ذیل میں وہ پیشگوئی لکھتے ہیں جو زلزلہ آنے کی نسبت انجیل متی میں لکھی گئی ہے جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کیا گیاہے اور وہ یہ ہے ۔ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاؔ ہت پر چڑھ آوے گی اور کال اور مری پڑے گی اور جگہ جگہ بھونچال آویں گے ۔ دیکھو انجیل متی باب ۲۴۔ یہی پیشگوئی ہے جس کی نسبت میں نے ازالہ اوہام میں وہ عبارت لکھی ہے جو معترض نے اخبار مذکور کے صفحہ پا۵نچ کالم اوّل سطرچھبیس۲۶ میں درج کی ہے اور وہ یہ ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے مری پڑے گی لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے۔ معترض صاحب میری اس عبارت کو لکھ کر اس سے یہ بات نکالتے ہیں کہ گویامیں نے یہ اقرار کیاہے کہ زلزلہ کی نسبت پیشگوئی کرنا کوئی قابل وقعت چیز نہیں اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت سے میرا یہ مدّعا نہیں ہے جو معترض نے سمجھا ہے بلکہ یہ غرض ہے کہ معمولی طور پر ایک بات کو پیش کرنا جس میں کوئی اعجوبہ نہیں اور جس میں کوئی فوق العادت امرنہیں پیشگوئی کے مفہوم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ مثلاً اگر کوئی پیشگوئی کرے کہ برسات کے دنوں میں کچھ نہ کچھ بارشیں ہوں گی تو یہ پیشگوئی نہیں کہلا سکتی کیونکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ برسات کے مہینوں میں کچھ نہ کچھ بارشیں ہو جایا کرتی ہیں۔ ہاں اگر کوئی یہ پیشگوئی کرے کہ اب کی دفعہ برسات کے دنوں میں اس قدر بارشیں ہوں گی کہ زمین میں سے چشمے جاری ہوجائیں گے اور کوئیں پُر ہوکر نہروں کی طرح بہنے لگیں گے اور گذشتہ سو برس میں ایسی بارش کی کوئی نظیر نہیں ہوگی تو اس کانام ضرور ایک امر خارق عادت اور پیشگوئی رکھا جائے گا سو اسی اصول کے لحاظ سے میں نے انجیل متی باب۲۴ کی پیشگوئی پر اعتراض کیا تھا کہ صرف اتنا کہہ دینا کہ زلزلے آئیں گے خاص کر اس ملک میں جس میں ہمیشہ زلزلے آیاکرتے ہیں بلکہ سخت زلزلے بھی آتے ہیں یہ کوئی ایسی خبر نہیں ہے جس کانام پیشگوئی رکھا جائے یا اس کو ایک امر خارق عادت ٹھہرایا جائے۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ کیااُن ہرسہ اشتہارات میں بھی جو میں نے زلزلہ کی نسبت پیشگوئی