ہوش اُڑ جائیں گے انساں کے پرندوں کے حواس
بھولیں گے نغموں کو اپنے سب کبوتر اور ہزار
ہر مسافر پر وہ ساعت سخت ہے اور وہ گھڑی
راہ کو بھولیں گے ہوکر مست و بیخود راہوار
خون سے مردوں کے کوہستان کے آبِ رواں
سرخ ہو جائیں گے جیسے ہو شرابِ انجبار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جنّ وانس
زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار
اِک نمونہ قہر کا ہوگا وہ ربّانی نشاں
آسماں حملے کرے گا کھینچ کر اپنی کٹار
ہاں نہ کر جلدی سے انکار اے سفیہِ ناشناس
اِس پہ ہے میری سچائی کا سبھی دارومدار
وحی حق کی بات ہے ہوکر رہے گی بے خطا
کچھ دنوں کر صبر ہوکر متقی اور بُردبار
یہ گماں مت کر کہ یہ سب بدگمانی ہے معاف
قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار