آسماں پر شور ہے پر کچھ نہیں تم کو خبر دن تو روشن تھا مگر ہے بڑھ گئی گرد و غبار اِک نشاں ہے آنے والا آج سے کچھ دن کے بعد جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئے گا قہر خدا سے خلق پر اِک انقلاب اِک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یک بیک اِک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے* کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اِک جھپک میں یہ زمیں ہو جائے گی زیرو زبر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آبِ رودبار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یاسمن صبح کردے گی انہیں مثلِ درختانِ چنار خدا تعالیٰ کی وحی میں زلزلہ کا بار بار لفظ ہے۔ اور فرمایا کہ ایسا زلزلہ ہو گا جو نمونۂ قیامت ہو گا بلکہ قیامت کا زلزلہ اس کو کہنا چاہیئے جس کی طرف سورۃ3۱؂ اشارہ کرتی ہے لیکن میں ابھی تک اس زلزلہ کے لفظ کو قطعی یقین کے ساتھ ظاہر پر جما نہیں سکتا۔ ممکن ہے یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھادے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ ہاں اگر ایسا فوق العادت نشان ظاہر نہ ہو اور لوگ کھلے طور پر اپنی اصلاح بھی نہ کریں تو اس صورت میں مَیں کاذب ٹھہروں گا۔مگر میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ شدید آفت جس کو خدا تعالیٰ نے زلزلہ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے صرف اختلافِ مذہب پر کوئی اثر نہیں رکھتی اور نہ ہندو یا عیسائی ہونے کی وجہ سے کسی پر عذاب آسکتا ہے اور نہ اس وجہ سے آسکتا ہے کہ کوئی میری بیعت میں داخل نہیں یہ سب لوگ اس تشویش سے محفوظ ہیں۔ ہاں جو شخص خواہ کسی مذہب کا پابند ہو جرائم پیشہ ہونا اپنی عادت رکھے اور فسق و فجور میں غرق ہو اور زانی، خونی، چور، ظالم اور ناحق کے طور پر بد اندیش، بد زبان اور بدچلن ہو اس کو اس سے ڈرنا چاہیئے اور اگر توبہ کرے تو اس کو بھی کچھ غم نہیں اور مخلوق کے نیک کردار اور نیک چلن ہونے سے یہ عذاب ٹل سکتا ہے قطعی نہیں ہے۔ منہ