(ضمیمہؔ براہین احمدیہ حصہ پنجم)
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم
اے یار ازل بس است روئے تو مرا
بہتر زِ ہزار خلد کوئے تو مرا
از مصلحتے دگر طرف بینم لیک
ہر لحظہ نگاہِ ہست سوئے تو مرا
بر عزتِ من اگر کسے حملہ کند
صبر است طریق ہمچو خوئے تو مرا
من چیستم و چہ عزتم ہست مگر
جنگ است زِ بہرِ آبروئے تو مرا
ایک صاحب محمد اکرام اللہ نام نے روزانہ پیسہ اخبار مورخہ۲۲ ؍ مئی ۱۹۰۵ء میں میرے ان اشتہارات کی نسبت جن میں اوّ۔۱ل دفعہ اور دو۔۲م دفعہ کے زلزلہ کی نسبت پیشگوئیاں ہیں کچھ اعتراض شائع کئے ہیں اور میرے خیال میں وہ اعتراضات صرف تعصب کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ ناسمجھی اور نہایت محدود واقفیت بھی ان کا موجب ہے ۔ قوم کی حالت پر اسی وجہ سے مجھے رونا آتا ہے کہ اعتراض کرنے کے وقت کچھ تدبّر نہیں کرتے اور جنون کی طرح ایک جوش پیدا ہو جاتاہے یا خود نمائی کی وجہ سے یہ شوق دامن گیر ہوتا ہے کہ کسی طرح معترض بن کر ہمیں بھی اوّل درجہ کے مخالفوں میں جگہ مل جائے اور یا کم سے کم لائق اور اہلِ علم متصور ہوں مگر بجائے لائق کہلانے کے خود اپنے ہاتھ سے اپنی پردہ دری کرتے ہیں۔ اب اہل انصاف اعتراضات کو سنیں اور ان کے جوابات پر غور کرکے دیکھیں کہ کیا ایسے اعتراضات کوئی منصف مزاج جس کو کچھ بھی عقل اور دین سے حصہ ملا ہے کرسکتا ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ اوّل خود دھوکا کھاتے ہیں اور پھر لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اور اس جاہلیت کا سارا باعث وہ جلا ہوا تعصب ہے کہ جو جہنم کی آگ اپنے اندر رکھتا ہے۔
خلاصہ اعتراض اوّ۔۱ل قولہ۔اب ہم مرزا صاحب کے قول سے ثابت کرتے ہیں کہ زلزلہ کی پیشگوئی کوئی قابلِ وقعت چیز نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی کتاب ازالہ اوہام میں خود لکھتے ہیں کہ زلزلہ کی پیشگوئی