کیوں کریں گے وہ مدد اُن کو مدد سے کیا غرض
ہم تو کافر ہوچکے اُن کی نظر میں بار بار
پر مجھے رہ رہ کے آتا ہے تعجب قوم سے
کیوں نہیں وہ دیکھتے جو ہو رہا ہے آشکار
شکر لِلّٰہ میری بھی آہیں نہیں خالی گئیں
کچھ بنیں طاعوں کی صورت کچھ زلازل کے بخار
اِک۱ طرف طاعون خونی کھا رہا ہے ملک کو
ہو رہے ہیں صدہزاراں آدمی اس کا شکار
دوسر۲ ے منگل کے دن آیا تھا ایسا زلزلہ
جس سے اِک محشر کا عالم تھا بصد شوروپکار
ایک ہی دم میں ہزاروں اس جہاں سے چل دیئے
جس قدر گھر گر گئے اُن کا کروں کیونکر شمار
یا تو وہ عالی مکاں تھے زینت و زیبِ جلوس
یا ہوئے اِک ڈھیر اینٹوں کے پُر از گرد و غبار
حشر جس کو کہتے ہیں اِک دم میں برپا ہوگیا
ہر طرف میں مرگ کی آواز تھی اور اضطرار
دب گئے نیچے پہاڑوں کے کئی دیہات و شہر
مرگئے لاکھوں بشر اور ہوگئے دُنیا سے پار
اِس نشاں کو دیکھ کر پھر بھی نہیں ہیں نرم دل
پس خدا جانے کہ اب کس حشر کاہے انتظار
وہ جو کہلاتے تھے صوفی کِیں میں سب سے بڑھ گئے
کیا یہی عادت تھی شیخِ غزنوی کی یادگار
کہتے ہیں لوگوں کو ہم بھی زُبدۃُ الابرار ہیں
پڑتی ہے ہم پر بھی کچھ کچھ وحیِ رحماں کی پھوار
پر وہی نا فہم ملہم اَوّلُ الاعدا ہوئے
آگیا چرخِ بریں سے اُن کو تکفیروں کا تار
سب نشاں بیکار اُن کے بغض کے آگے ہوئے
ہو گیا تیرِ تعصّب ان کے دل میں وار پار
دیکھتےؔ ہرگز نہیں قُدرت کو اُس ستّار کی
گو سناویں اُن کو وہ اپنی بجاتے ہیں ستار
صوفیا اب ہیچ ہے تیری طرح تیری تراہ
آسماں سے آگئی میری شہادت بار بار
قدرتِ حق ہے کہ تم بھی میرے دشمن ہوگئے
یا محبت کے وہ دن تھے یا ہوا ایسا نقار
دھو دیئے دل سے وہ سارے صحبتِ دیریں کے رنگ
پھول بَن کر ایک مدت تک ہوئے آخر کو خار
جس قدر نقدِ تعارف تھا وہ کھو بیٹھے تمام
آہ کیا یہ دل میں گذرا ۔ہوں میں اس سے دلفگار