یہ فتوحاتِ نمایاں یہ تواتر سے نشاں
کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکّاروں کا کار
ایسی سرعت سے یہ شہرت ناگہاں سالوں کے بعد
کیا نہیں ثابت یہ کرتی صدقِ قولِ کردگار
کچھ تو سوچو ہوش کرکے کیا یہ معمولی ہے بات
جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار
مٹ گئے حیلے تمہارے ہوگئی حجت تمام
اب کہو کس پر ہوئی اے منکرو *** کی مار
بندۂ درگاہ ہوں اور بندگی سے کام ہے
کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب نہ دل میں خوفِ ہار
مت کرو بک بک بہت ۔ اُس کی دلوں پر ہے نظر
دیکھتا ہے پاکی ءِ دل کو نہ باتوں کی سنوار
کیسے پتھر پڑ گئے ہَے ہَے تمہاری عقل پر
دیں ہے مُنہ میں گرگ کے۔ تم گرگ کے خود پاسدار
ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دینِ احمد پر تبر
کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور اُن کے وہ وار
کون سی آنکھیں جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں
کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بیقرار
کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج
اِک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار
یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک
کیا یہ شمس الدّیں نہاں ہو جائے گا اب زیرِغار
جنگ روحانی ہے اب اِس خادم و شیطان کا
دل گھٹا جاتا ہے یاربّ سخت ہے یہ کارزار
ہر نبیء وقت نے اس جنگ کی دی تھی خبر
کر گئے وہ سب دعائیں بادو چشمِ اشکبار
اے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ
وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار
جنگؔ یہ بڑھ کر ہے جنگِ روس اور جاپان سے
میں غریب اور ہے مقابل پر حریفِ نامدار
دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر
اے مری جاں کی پنہ فوجِ ملائک کو اُتار
بستر راحت کہاں ان فکر کے ایاّم میں
غم سے ہردن ہو رہا ہے بد تراز شب ہائے تار
لشکر شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھِر گیا
بات مشکل ہوگئی قدرت دکھا اے میرے یار
نسلِ انساں سے مدد اب مانگنا بے کار ہے
اب ہماری ہے تری درگاہ میں یاربّ پکار